مقبوضہ جموں کشمیر کے ضلع کولگام کے علاقے کیلام میں غیر مقامی مزدوروں پر فائرنگ کے پیش آنے والے واقعے کو بنیاد بنا کر بھارتی میڈیا اور انٹیلی جنس ایجنسی ‘را’ کے ایکس ہینڈلرز نے ایک بار پھر روایتی ہرزہ سرائی کا آغاز کرتے ہوئے بغیر کسی تحقیق کے اس کا الزام پاکستان پر عائد کر دیا ہے۔
مبصرین کے مطابق یہ واقعہ بھارتی ریاست کی جانب سے خطے میں جاری کشیدگی کو ہوا دینے اور امرناتھ یاترا کے دوران کسی بڑے فالس فلیگ آپریشن کی گھنائونی سازش کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔
کولگام واقعہ اور بھارتی پروپیگنڈے کی حقیقت
بھارتی میڈیا کے مطابق مقبوضہ جموں کشمیر کے علاقے کولگام میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے غیر مقامی مزدور جاں بحق ہوئے۔ اس واقعے کے فوراً بعد بھارتی انٹیلی جنس کے پروردہ سوشل میڈیا ہینڈلز (بشمول ’بابا بنارس‘) اور متعصب بھارتی میڈیا نے بغیر کسی تحقیقات کے روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری طور پر پاکستان اور کالعدم تنظیموں پر الزام تراشی شروع کر دی۔
Big Terrorist Attack in India
Two people killed after Islamist terrorist opened fire on civilians in Kellam area of Kulgam, Jammu & Kashmir. UN designated Pakistani Terrorist Organisation Lashkar-e-Taiba (LeT) has taken the responsibility for the attack. pic.twitter.com/rYI6r2egTG
بھارتی میڈیا کا یہ طرزِ عمل اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہ ہر ایسے واقعے کو پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی اور عالمی سطح پر بدنام کرنے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے۔
زمینی حقائق کا جائزہ لیے بغیر اس قسم کے الزامات لگانا دراصل بھارتی ریاستی مشینری کے اس مذموم ایجنڈے کا حصہ ہیں جس کا مقصد اپنی ناکامیوں اور مقبوضہ وادی میں اندرونی سیکیورٹی کے بحران سے دنیا کی توجہ ہٹانا ہے۔
پہلگام فالس فلیگ ڈرامے کی یادیں تازہ
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ بھارت نے اس قسم کا مکروہ ہتھکنڈا استعمال کیا ہو۔ ماضی میں بھی پہلگام فالس فلیگ آپریشن جیسے ڈرامے رچا کر پاکستان کو بدنام کرنے کی کوششیں کی جا چکی ہیں، جن کا مقصد مقبوضہ علاقے میں ریاستی جبر کو جواز فراہم کرنا اور سیاسی مفادات کا حصول تھا۔
واضح رہے کہ موجودہ حساس حالات، جاری امرناتھ یاترا اور اہم برسیوں کے موقع پر اس قسم کے واقعات کا رونما ہونا اور فوری طور پر پاکستان پر ملبہ گرانا بھارتی ایجنسیوں کی پرانی اور جانی پہچانی چال ہے۔
سیاسی ردعمل اور ریاستی ڈھونگ
واقعے کے بعد مقبوضہ جموں کشمیر کے نام نہاد لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ وششنو دیو سائی کی جانب سے روایتی مذمتی بیانات سامنے آئے ہیں، جن میں سیکیورٹی فورسز کو مزید کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
تاہم زمینی حقائق یہ ہیں کہ قابض انتظامیہ کشمیری عوام اور وہاں موجود مزدوروں کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اس نااہلی کا ملبہ ہمیشہ کی طرح بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر ڈالا جا رہا ہے۔
جموں کشمیر میں غیر مقامی مزدوروں اور محنت کشوں کو نشانہ بنانے کی یہ کوئی پہلی واردات نہیں ہے۔ ماضی میں بھی ایسے متعدد واقعات رونما ہو چکے ہیں جن کا مقصد وادی میں خوف و ہراس پھیلانا اور اقتصادی سرگرمیوں کو متاثر کرنا رہا ہے۔
اس قسم کے حملے بالخصوص ایسے حساس موقعوں اور سیاحتی سیزن یا امرناتھ یاترا کے دوران کیے جاتے ہیں تاکہ خطے میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کر کے کشمیریوں پر ظلم و ستم کا جواز مہیا کیا جائے۔
سیکیورٹی ماہرین کے مطابق ایسے حملے اکثر و بیشتر فالس فلیگ یا پروپیگنڈا مقاصد کے لیے بھی استعمال کیے جاتے ہیں، جس پر خطے کے سیاسی اور سماجی حلقوں کی طرف سے گہری تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔
کولگام کا یہ واقعہ بظاہر ایک عام دہشتگردانہ حملہ دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کے سیاسی، اسٹریٹجک اور نفسیاتی مضمرات انتہائی گہرے ہیں۔
انٹیلی جنس اور سیکیورٹی کی ناکامی یا سوالیہ نشان
امرناتھ یاترا اور دیگر حساس تہواروں یا سالگرہ کے موقعوں پر سیکیورٹی کے طبل بجائے جاتے ہیں، اس کے باوجود غیر مقامی مزدوروں کی سیکیورٹی میں اس قسم کی چوک سیکیورٹی اداروں کی تیاریوں پر سوالیہ نشان کھڑی کرتی ہے۔
پروپیگنڈا اور فالس فلیگ کے خدشات
اس نوعیت کے واقعات کے فوراً بعد بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا ہینڈلز کی طرف سے بغیر کسی تحقیقات کے فوری طور پر پاکستان اور مخصوص تنظیموں کو ذمہ دار ٹھہرانا ایک طے شدہ بیانیے کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ اس سے خطے میں جنگی جنون اور سیاسی مفادات کے لیے فضا ہموار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اقتصادی اور سماجی اثرات
اس قسم کے حملے کا براہ راست مقصد وادی میں کام کرنے والے غریب مزدوروں کو خوفزدہ کرنا ہے تاکہ وہ جموں کشمیر چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں، جس سے وہاں کی مقامی معیشت اور مزدور طبقے پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔