کینیڈا کا اعلیٰ تعلیم کے خواہشمند طلبہ کے لیے شاندار اعلان، بے مثال آسانیاں پیدا کر دیں

کینیڈا کا اعلیٰ تعلیم کے خواہشمند طلبہ کے لیے شاندار اعلان، بے مثال آسانیاں پیدا کر دیں

کینیڈین حکومت نے غیر ملکی طلبہ، بالخصوص ماسٹرز اور پی ایچ ڈی امیدواروں کے لیے ’اسٹڈی پرمٹ‘ کا عمل تیز اور آسان بناتے ہوئے انہیں اپنے اہلخانہ کینیڈا لانے کی اجازت دے دی ہے۔

نئی پالیسی کے تحت طویل کاغذی کارروائی کا خاتمہ کر کے عالمی سطح کے باصلاحیت محققین کے لیے تعلیم اور مستقبل کے روزگار کے مواقع مزید روشن کیے گئے ہیں۔

محکمہ امیگریشن کی جانب سے متعارف کرائی گئی اس حالیہ پالیسی کے تحت اعلیٰ تعلیم کے طلبہ کے لیے طویل اور کٹھن مراحل کو مختصر کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:یورپی یونین کا سکیورٹی کونسل بنانے کا اعلان، برطانیہ، کینیڈا کو شامل کرنے کی تجویز

بالخصوص پی ایچ ڈی کے امیدواروں کی ’اسٹڈی پرمٹ‘ درخواستوں کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے گا، اور ان پر فیصلہ اب محض 2 ہفتوں کے اندر کر دیا جائے گا۔

اس کے علاوہ یکم جنوری 2026 سے پبلک اداروں میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کے پروگرامز میں داخلہ لینے والے تمام طلبہ کو صوبائی یا علاقائی تصدیقی خط کی پیشگی شرط سے بھی مکمل طور پر مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔

اہلخانہ کی کفالت اور ورک پرمٹ کے مواقع

اس نئی حکومتی پالیسی کا ایک اور انتہائی خوش آئند پہلو یہ ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے لیے کینیڈا کا رخ کرنے والے طلبہ اب اپنے تعلیمی سفر کے دوران تنہا نہیں رہیں گے، بلکہ وہ اپنے اہلخانہ کو بھی ساتھ لا سکیں گے۔

مزید برآں اپنی تعلیم کامیابی سے مکمل کرنے کے بعد یہ طلبہ ’پوسٹ گریجویشن ورک پرمٹ‘ کے لیے بھی براہِ راست اہل تصور کیے جائیں گے، جو مستقبل میں ان کے لیے کینیڈا میں مستقل رہائش کی راہ ہموار کرنے کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔

اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟

یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کینیڈا کے تعلیمی سیکٹر میں غیر ملکی طلبہ کے رجحانات میں واضح تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، سال 2024 کے مقابلے میں کینیڈا میں زیرِ تعلیم بین الاقوامی طلبہ کی مجموعی تعداد میں ایک تہائی کمی واقع ہوئی ہے۔

تاہم اس مجموعی گراوٹ کے باوجود ایک حوصلہ افزا رجحان یہ سامنے آیا ہے کہ اسی عرصے کے دوران اعلیٰ تعلیم یعنی گریجویٹ طلبہ کا تناسب 12 فیصد سے بڑھ کر 21 فیصد تک جا پہنچا ہے۔

کینیڈا کی دور اندیش حکمت عملی

امیگریشن اور تعلیمی ماہرین کے مطابق کینیڈا کا یہ حالیہ اقدام محض ویزا پالیسی کی تبدیلی نہیں بلکہ عالمی سطح پر جاری ’برین ڈرین‘ (ذہین افراد کی منتقلی) کی دوڑ میں آگے رہنے کی ایک دور اندیش معاشی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

مزید پڑھیں:نئی ویزا پالیسی،امریکا میں غیرملکی ہنرمند کارکنوں کیلئے مشکلات میں اضافہ

کینیڈا کو اس وقت ہنرمند اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کے حوالے سے امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا جیسے ممالک کے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔

کینیڈا کی طرف سے مجموعی تعداد کے بجائے صرف ’معیار‘ پر توجہ مرکوز کر کے کینیڈا اپنے اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے شعبے کو دنیا کے بہترین دماغوں سے لیس کرنا چاہتا ہے۔

اس پالیسی کا بنیادی مقصد صرف تعلیمی فیسیں اکٹھا کرنا نہیں، بلکہ ایسے محققین کو ملک کا مستقل حصہ بنانا ہے جو کینیڈا کی ٹیکنالوجی، سائنس اور معیشت کی طویل المدتی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکیں۔

Related Articles