غزہ میں فلسطینی شہریوں کی ہلاکتوں اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر بننے والی دستاویزی فلم ’نازا‘ ایک طرف وینس فلم فیسٹیول میں عالمی توجہ حاصل کر رہی ہے تو دوسری جانب اسرائیل میں اس کے ہدایت کاروں کو حکومتی ردعمل کا سامنا ہے۔
اسرائیلی وزیر ثقافت مکی زوہر نے فلم کے ہدایت کاروں یووال ابراہم اور ریچل زور کو ریاست سے غداری کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کی اسرائیلی شہریت منسوخ کرنے کے لیے کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے۔
مکی زوہر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں فلم کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ فلم سازوں نے بیرون ملک پذیرائی حاصل کرنے کے لیے اسرائیل کو نقصان پہنچایا۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات ریاست سے غداری کے زمرے میں آتے ہیں۔ اسرائیلی وزیر نے یہ بھی کہا کہ وہ وزیر ثقافت کی حیثیت سے دونوں فلم سازوں کی شہریت منسوخ کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں گے۔
تقریباً 80 منٹ دورانیے کی دستاویزی فلم ’نازا‘ میں غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے اہداف کے انتخاب اور فوجی کارروائیوں کے طریقہ کار کا جائزہ لیا گیا ہے۔ فلم میں 24 اسرائیلی فوجی اور انٹیلی جنس اہلکاروں کی خفیہ طور پر ریکارڈ کی گئی گواہیاں شامل ہیں۔ ان افراد کی شناخت چھپانے کے لیے ان کے چہروں اور آوازوں میں تبدیلی کی گئی ہے۔ فلم میں خاص طور پر غزہ میں اہداف کے تعین کے لیے ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق دعووں کو بھی موضوع بنایا گیا ہے۔ فلم سازوں نے تقریباً 3 سال تک اس منصوبے پر کام کیا اور اسرائیلی فوج و انٹیلی جنس سے وابستہ افراد کے انٹرویوز کیے۔
وینس فلم فیسٹیول میں شاندار پذیرائی
’نازا‘ کی وینس فلم فیسٹیول میں نمائش کے بعد اسے تقریباً 25 منٹ تک کھڑے ہو کر داد دی گئی، جسے فیسٹیول کی طویل ترین اسٹینڈنگ اوویشنز میں شمار کیا گیا۔ بعد ازاں فلم نے اسپیشل جیوری پرائز بھی حاصل کیا۔ فلم کے ہدایت کار یووال ابراہم اور ریچل زور اس سے قبل دستاویزی فلم ’نو ادر لینڈ‘ پر بھی کام کر چکے ہیں، جس نے 2025 میں بہترین دستاویزی فلم کا آسکر جیتا تھا۔
دوسری جانب اسرائیلی حکام نے ’نازا‘ کے مواد کو مسترد کرتے ہوئے فلم پر اسرائیلی فوج کے خلاف سنگین الزامات عائد کرنے کا الزام لگایا ہے۔ اسرائیلی فوج کا مؤقف ہے کہ وہ غزہ میں شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کرتی ہے۔
یوں وینس میں ایوارڈ حاصل کرنے والی ’نازا‘ اب صرف ایک فلم نہیں رہی بلکہ اسرائیل میں آزادی اظہار، فوجی کارروائیوں اور فلم سازوں کے خلاف ممکنہ قانونی اقدامات پر بھی ایک نئی بحث کا مرکز بن گئی ہے۔