پیرس کے ایک ہوٹل میں تقریباً 100 سال قبل پیش آنے والا ایک حیران کن واقعہ آج بھی لوگوں کی توجہ حاصل کرتا ہے، جہاں ایک چیمبر میڈ کے سیب کھانے کے دوران دنیا کے نایاب ترین ہیروں میں شمار ہونے والے قیمتی ہیرے کی چوری کا راز کھل گیا۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ 1926 میں پیرس کے ایک ہوٹل میں پیش آیا، جہاں چیمبر میڈ سوزان شلٹز معمول کے مطابق ایک کمرے کی صفائی کررہی تھیں۔ کمرے میں دو نوجوان قیام پذیر تھے۔
صفائی کے دوران سوزان کی نظر کمرے میں رکھے سوٹ کیس میں موجود ایک سیب پر پڑی۔ بھوک لگنے پر انہوں نے سیب اٹھایا اور اس کا ایک نوالہ لیا، لیکن اگلے ہی لمحے ان کے دانت کسی انتہائی سخت چیز سے ٹکرا گئے۔ سیب کے اندر ایک 9.01 قیراط کا نایاب گلابی ہیرا چھپا ہوا تھا، جسے ’گرینڈ کونڈے‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:36 کروڑ روپے کا ٹوائلٹ پیپر، 22 کیرٹ سونے سے بنا رول دنیا بھر میں مشہور
نایاب ہیرے کی تلاش میں تھی پولیس
’گرینڈ کونڈے‘ کوئی عام ہیرا نہیں تھا بلکہ فرانس کے تاریخی اور انتہائی قیمتی جواہرات میں شمار ہوتا تھا۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ جس وقت سوزان نے سیب سے ہیرا دریافت کیا، پولیس پورے یورپ میں اسی ہیرے کی تلاش کررہی تھی۔ اس سے تقریباً 2ماہ قبل فرانس کے تاریخی قلعے شاتو دے شانتیلی کے میوزیم میں بڑی چوری ہوئی تھی۔
پیرس سے تقریباً 50 کلومیٹر شمال میں واقع اس قلعے سے 75 سے زائد قیمتی زیورات چوری کیے گئے تھے۔اس وقت چوری ہونے والے زیورات کی مجموعی مالیت تقریباً 30 لاکھ ڈالر بتائی گئی تھی اور پولیس کو شبہ تھا کہ اس واردات میں کسی ماہر گروہ کا ہاتھ ہے۔
چوروں کی سب سے بڑی غلطی
تحقیقات میں سامنے آیا کہ چوری میں ملوث دونوں افراد لیون کاؤفر اور ایمائل سوتر سابق فرانسیسی فضائی اہلکار تھے۔ دونوں نے چند سیڑھیوں کی مدد سے قلعے میں داخل ہو کر قیمتی زیورات چوری کیے تھے۔ تاہم وہ چوری کیے گئے سامان میں سے صرف تقریباً 30 ہزار فرانک مالیت کا مال فروخت کر سکے۔ ان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ’گرینڈ کونڈے‘ ہیرا تھا
یہ گلابی ہیرا اتنا معروف تھا کہ یورپ کے بڑے جیولرز اسے آسانی سے پہچان سکتے تھے۔ اسی وجہ سے کوئی سنار اسے خریدنے کا خطرہ مول لینے کے لیے تیار نہیں تھا۔ آخرکار چوروں نے ہیرے کو چھپانے کے لیے اسے ایک سیب کے اندر ڈال دیا، لیکن یہی چال ان کے لیے سب سے بڑی غلطی ثابت ہوئی۔
ایک ہوٹل ملازمہ نے جب وہ سیب کھایا تو ہیرے نے اس کے دانت سے ٹکرا کر پوری واردات کا راز کھول دیا۔یوں ایک معمولی سا سیب تقریباً ایک صدی پرانی ہیرے کی چوری پکڑوانے کا ذریعہ بن گیا۔


