چیٹ جی پی ٹی سے بننے والی سیکیورٹی رپورٹس نے ایپل کو مشکل میں ڈال دیا

چیٹ جی پی ٹی سے بننے والی سیکیورٹی رپورٹس نے ایپل کو مشکل میں ڈال دیا

ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کی جانے والی کم معیار اور غیر مصدقہ سیکیورٹی رپورٹس کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث اپنی سیکیورٹی ٹیم کو بھیجی جانے والی بگ رپورٹس پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق جون 2026 میں اے آئی سے تیار ہونے والی رپورٹس کی غیر معمولی تعداد کے باعث ایپل کے سیکیورٹی ریویو سسٹم پر شدید دباؤ پڑا، جس کے بعد کمپنی نے رپورٹنگ کے طریقہ کار میں تبدیلی کا فیصلہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں:اینڈرائیڈ موبائل صارفین ہو جائیں خبردار! یوٹیوب کااہم اعلان

ایپل کا کہنا ہے کہ اسے موصول ہونے والی متعدد رپورٹس میں ایسے سیکیورٹی خطرات کی نشاندہی کی جاتی ہے جو حقیقت میں موجود نہیں ہوتے، جس کے باعث ماہرین کا قیمتی وقت غیر ضروری تحقیقات میں صرف ہوتا ہے اور اصل خامیوں کی نشاندہی کا عمل متاثر ہوتا ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ مسئلہ صرف ایپل تک محدود نہیں بلکہ پوری ٹیکنالوجی انڈسٹری کو درپیش ہے۔ جنریٹو اے آئی نے جہاں سیکیورٹی خامیوں کی تلاش کو پہلے سے آسان بنایا ہے، وہیں نوآموز محققین کی جانب سے غیر معیاری اور غلط رپورٹس کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :چاند پر ایک اور گڑھا بننے والا، اسپیس ایکس کے راکٹ کا تصادم کب ہوگا؟

میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اٹلی کی سائبر سیکیورٹی اسٹارٹ اپ بائناریو نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اوپن اے آئی کے چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے صرف تین ہفتوں کے دوران میک بک کے جدید ترین آپریٹنگ سسٹم میں 50 سے زائد ممکنہ سیکیورٹی خامیوں کی نشاندہی کی۔

ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت سیکیورٹی تحقیق کے میدان میں ایک مؤثر معاون ثابت ہو سکتی ہے، تاہم اس سے تیار ہونے والی رپورٹس کی انسانی سطح پر جانچ اور تصدیق بدستور ناگزیر ہے تاکہ حقیقی خطرات اور غلط نشاندہی میں فرق کیا جا سکے۔

editor

Related Articles