عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس کے بعد برطانوی برینٹ اور امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) دونوں کی قیمتیں پانچ فیصد سے زائد گر گئیں۔ توانائی کی عالمی منڈی میں اس بڑی گراوٹ کو سرمایہ کاروں کے اعتماد، سپلائی میں بہتری کی توقعات اور مشرق وسطیٰ میں سفارتی پیش رفت سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق برطانوی برینٹ خام تیل کی قیمت میں 5.32 فیصد کمی کے بعد یہ 82.61 ڈالر فی بیرل پر آ گئی جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 5 فیصد کمی کے بعد 79.71 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔
ماہرین کے مطابق حالیہ کمی کی ایک اہم وجہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں ممکنہ کمی اور ایران و امریکا کے درمیان سفارتی رابطوں میں پیش رفت کی اطلاعات ہیں۔ سرمایہ کاروں کو توقع ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب رہے تو عالمی سطح پر خام تیل کی فراہمی میں رکاوٹوں کا خدشہ کم ہو جائے گا جس سے قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
عالمی معیشت میں سست روی کے خدشات بھی خام تیل کی قیمتوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ مختلف ممالک میں صنعتی سرگرمیوں کی رفتار میں کمی اور تیل کی طلب سے متعلق غیر یقینی صورتحال نے بھی سرمایہ کاروں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے۔
ادھر توانائی کی عالمی منڈی پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق اگر تیل کی قیمتوں میں کمی کا یہ رجحان برقرار رہا تو تیل درآمد کرنے والے ممالک کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ ایسے ممالک میں ایندھن کی درآمدی لاگت کم ہونے سے مہنگائی پر قابو پانے اور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔