آدھے سر کا درد کیوں ہوتا ہے ؟ماہرین نے اہم وجہ تلاش کرلی

آدھے سر کا درد کیوں ہوتا ہے ؟ماہرین نے اہم وجہ تلاش کرلی

مائیگرین ایک شدید اعصابی عارضہ ہے جسے عام طور پر آدھے سر کا درد کہا جاتا ہے، اس کیفیت میں درد اچانک شروع ہو سکتا ہے اور شدت اختیار کر لیتا ہے، جس کے باعث متاثرہ شخص کے لیے روزمرہ کے کام انجام دینا اور کسی سرگرمی پر توجہ مرکوز کرنا مشکل ہو جاتا ہے،ماہرین کے مطابق مائیگرین کا درد عموماً سر کے ایک حصے سے شروع ہوتا ہے اور بعض اوقات ایک آنکھ کے پیچھے سے دوسری جانب تک پھیل سکتا ہے۔

مائیگرین کے دوران تیز روشنی، اونچی آواز اور شدید خوشبو درد کی شدت میں اضافہ کر سکتی ہے، اسی وجہ سے اکثر مریض اندھیرے اور پرسکون ماحول میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں،اس کے علاوہ متلی، قے آنے کا احساس، جسمانی کمزوری اور تھکن جیسی علامات بھی سامنے آ سکتی ہیں۔

دماغ کی حساسیت سے تعلق

طبی ماہرین کے مطابق مائیگرین دراصل دماغ کی غیر معمولی حساسیت سے جڑا ہوا مسئلہ ہے، اگر یہ تکلیف بار بار ہونے لگے یا روزمرہ زندگی متاثر کرنے لگے تو اسے معمولی سر درد سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے،دائمی مائیگرین کے شکار افراد کو مہینے کے کئی دن اس تکلیف کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

دنیا بھر میں عام بیماری

تحقیقی رپورٹس کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 15 فیصد افراد مائیگرین کا شکار ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں لوگ زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر شدید سر درد کا تجربہ کرتے ہیں۔

مائیگرین کی وجوہات

ماہرین کے مطابق کئی عوامل مائیگرین کو متحرک کر سکتے ہیں، جن میں ذہنی دباؤ،نیند کی کمی،پانی کی کمی،تیز روشنی یا شور،دھواں اور تیز ،خوشبو،کمزور بینائی،طویل عرصے تک بھوکا رہنا،کیفین کا زیادہ استعمال،ہارمونز میں تبدیلی،چینی اور الٹرا پروسیسڈ غذاؤں کا زیادہ استعمال شامل ہیں۔

علاج اور احتیاط

ڈاکٹروں کے مطابق مائیگرین کے علاج کے لیے مخصوص ادویات زیادہ مؤثر سمجھی جاتی ہیں، جو دماغ میں موجود مخصوص کیمیائی نظام پر اثر انداز ہو کر درد کی شدت کم کرتی ہیں تاہم ایسی ادویات صرف ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کرنی چاہئیں،ماہرین کا کہنا ہے کہ پیراسیٹامول یا اسپرین جیسی عام درد کش ادویات وقتی آرام فراہم کر سکتی ہیں، لیکن دائمی مائیگرین کا مکمل علاج نہیں کرتیں۔

خود علاج سے گریز

ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ اگر مائیگرین بار بار ہو، درد کی شدت بڑھ جائے یا معمولات زندگی متاثر ہونے لگیں تو خود سے دوائیں استعمال کرنے کے بجائے باقاعدہ طبی معائنہ اور مناسب علاج کروانا چاہیے۔

editor

Related Articles