وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کا پہلا اے آئی پر مبنی سرکاری نظام لانچ کر دیا

وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کا پہلا اے آئی پر مبنی سرکاری نظام لانچ کر دیا

وزیراعظم شہباز شریف نے مصنوعی ذہانت پر مبنی پرائم منسٹرز آفس سسٹم  کا افتتاح کر دیا، جس کا مقصد وزیراعظم کی جانب سے جاری کیے جانے والے ہر حکم کو جاری ہونے سے لے کر اس پر عمل درآمد اور تکمیل کے بعد جائزے تک مکمل طور پر ڈیجیٹل انداز میں مانیٹر کرنا ہے۔

وزیراعظم نے اس موقع پر وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ اور آئی ٹی سیکریٹری کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ نظام مختلف سرکاری اداروں کے درمیان رابطوں کو بہتر بنائے گا اور عوامی خدمات کی فراہمی کو مزید مؤثر اور تیز بنائے گا۔

یہ بھی پڑھیں :مفت چینی اے آئی نے امریکی ٹیک کمپنیوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی

حکام کے مطابق پی ایم او ایس پاکستان کا پہلا سرکاری پلیٹ فارم ہے جس میں مصنوعی ذہانت کو فیصلہ سازی اور عمل درآمد کی نگرانی کے بنیادی جزو کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ یہ نظام وزیراعظم کی جانب سے جاری ہونے والی تمام ہدایات کو مختلف وزارتوں اور متعلقہ اداروں تک مؤثر انداز میں پہنچانے کے ساتھ ساتھ ان پر عمل درآمد کو مقررہ مدت، معیار اور پیش رفت کے مطابق مانیٹر کرے گا۔

حکام نے بتایا کہ یہ پلیٹ فارم ایک محفوظ ڈیجیٹل ماحول میں تجزیاتی ٹیکنالوجی اور سرکاری معلومات کو یکجا کرکے فیصلہ سازی میں معاونت بھی فراہم کرے گا۔ اس کے ساتھ ایک ڈیجیٹل ریکارڈ بھی محفوظ ہوگا، جس میں وزیراعظم کی ہر ہدایت اور اس پر عمل درآمد کی مکمل تفصیلات مستقل بنیادوں پر محفوظ رہیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:ڈیجیٹل سیفٹی کے فروغ کے لیے پی ٹی اے اور میٹا کے درمیان اہم معاہدہ

روایتی سرکاری ٹریکنگ سسٹمز کے برعکس پی ایم او ایس مصنوعی ذہانت کی مدد سے ہدایات کو صرف محفوظ نہیں کرے گا بلکہ انہیں پڑھنے، درجہ بندی کرنے اور ان کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ نظام حکومتی پالیسیوں کو بہتر بنانے، مالی، تکنیکی اور انسانی وسائل کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانے اور معاشی نتائج میں بہتری لانے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں :آواز سے چلنے والے اے آئی فونز، کیا اسمارٹ فونز کی دنیا بدلنے والی ہے؟

حکومت کے مطابق پی ایم او ایس کا اجرا وفاقی حکومت کے ڈیجیٹل تبدیلی کے وسیع منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد سرکاری نظام کو جدید بنانا، شفافیت اور جوابدہی کو فروغ دینا اور دستی طریقہ کار پر انحصار کم کرنا ہے۔ مستقبل میں اس نظام کو مرحلہ وار وفاقی حکومت کے دیگر اداروں تک بھی توسیع دی جائے گی۔

editor

Related Articles