بھارت کے اندرونی سیاسی چیلنجز شدت اختیار کر گئے، نئی دہلی میں پاکستانی پرچم کی پینٹنگ نے نئی بحث چھیڑ دی

بھارت کے اندرونی سیاسی  چیلنجز شدت اختیار کر گئے، نئی دہلی میں پاکستانی پرچم کی پینٹنگ نے نئی بحث چھیڑ دی

نئی دہلی کے مختلف علاقوں میں چند نامعلوم افراد کی جانب سے پاکستانی پرچم کی پینٹنگ کیے جانے کے بعد بھارتی سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت میں نوجوانوں کے درمیان حکومتی پالیسیوں، روزگار، مہنگائی اور طرزِ حکمرانی پر بحث پہلے ہی شدت اختیار کر چکی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس واقعے کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد نوجوانوں کے مختلف حلقوں میں خارجہ پالیسی، علاقائی سفارت کاری اور جنوبی ایشیا کے مستقبل سے متعلق نئی بحث نے جنم لیا۔ بعض طلبہ تنظیموں اور شہری فورمز کا مؤقف ہے کہ خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے طاقت کے استعمال کے بجائے سفارت کاری، مذاکرات اور باہمی اعتماد کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت میں نوجوانوں کا ایک طبقہ روزگار، مہنگائی، معاشی دباؤ اور بعض حکومتی پالیسیوں پر اپنی تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے۔ ان کے مطابق حالیہ عرصے میں مختلف نوعیت کے احتجاج اور عوامی اجتماعات نے اس بے چینی کو مزید نمایاں کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت نے سلال ڈیم سےایک بار پھر پانی چھوڑ دیا، فلڈ الرٹ جاری

اگرچہ بعض احتجاجی سرگرمیاں اختتام پذیر ہو چکی ہیں، تاہم اپوزیشن جماعتوں اور شہری تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ نوجوانوں میں پائے جانے والے تحفظات اب بھی برقرار ہیں اور مختلف پلیٹ فارمز پر حکومتی پالیسیوں پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر کسی ملک میں نوجوان طبقہ حکومتی پالیسیوں پر کھل کر سوالات اٹھانا شروع کر دے تو اسے جمہوری عمل کا حصہ سمجھا جا سکتا ہے۔ تاہم، ان کے بقول ایسے ماحول میں سوشل میڈیا پر غلط معلومات، غیر مصدقہ دعووں اور مبالغہ آمیز بیانیوں کے پھیلاؤ کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے، جس کے باعث عوامی رائے پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ادھر بھارت کی بعض اپوزیشن جماعتوں نے نوجوانوں کی بے چینی کو معاشی اور سماجی مسائل سے جوڑتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ روزگار کے مواقع بڑھانے، مہنگائی پر قابو پانے اور نوجوانوں سے متعلق پالیسیوں پر نظرثانی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

Related Articles