سپارکو 5 اگست کو گلگت میں “سپیس فار کلائمیٹ” پر سیمپوزیم کا انعقاد کرے گا

سپارکو 5 اگست کو گلگت میں “سپیس فار کلائمیٹ” پر سیمپوزیم کا انعقاد کرے گا

پاکستان سپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) اپنے سپیس ایپلی کیشنز سینٹر فار کلائمیٹ سائنسز کے زیرِ اہتمام پانچ اگست کو گلگت کے رامادا ہوٹل میں ’’سپیس فار کلائمیٹ‘‘ کے عنوان سے دوسرے علاقائی سیمپوزیم کا انعقاد کرے گا جس میں برف سے ڈھکے علاقوں کی نگرانی، گلیشیئرز کی حرکیات، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (گلوف)، جنگلات، فضائی معیار، ماحولیات اور آبی گزرگاہوں کی تبدیلیوں سمیت موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

سپارکو کے مطابق سیمپوزیم میں پالیسی ساز، سائنسدان، محققین، ترقیاتی شراکت دار، ماہرینِ تعلیم اور صنعتی شعبے کے نمائندے شرکت کریں گے۔ شرکاء پاکستان کو درپیش موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے خلائی ٹیکنالوجی، سیٹلائٹ پر مبنی مشاہداتی نظام اور جدید جغرافیائی تجزیاتی ٹیکنالوجیز کے استعمال پر غور کریں گے۔

سپارکو کا کہنا ہے کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ ملک کو تباہ کن سیلاب، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے، خشک سالی، شدید گرمی کی لہروں، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور موسمیاتی پیٹرن میں مسلسل تبدیلی جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں بروقت، درست اور قابلِ اعتماد معلومات کی فراہمی کے لیے مقامی خلائی صلاحیتوں کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔

بیان کے مطابق ہندوکش۔ہمالیہ خطہ، جہاں قطبی علاقوں کے بعد دنیا کے سب سے زیادہ گلیشیئرز موجود ہیں، بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت کے باعث تیزی سے متاثر ہو رہا ہے۔ گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے نتیجے میں نئی گلیشیائی جھیلیں وجود میں آ رہی ہیں جبکہ موجودہ جھیلوں کا حجم بھی مسلسل بڑھ رہا ہے، جس سے گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے واقعات اور ان کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان کے شمالی علاقے، خصوصاً گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا، ان خطرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہیں، جہاں انسانی جانوں، بنیادی ڈھانچے، روزگار اور آبی وسائل کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: محکمہ موسمیات نے خیبر پختونخوا، گلگت ، پنجاب اور کشمیر کے لیے الرٹ جاری کردیا

سپارکو کے مطابق یہ سیمپوزیم علاقائی تعاون کو فروغ دینے اور اس امر کو اجاگر کرنے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہوگا کہ سیٹلائٹ پر مبنی زمینی مشاہداتی نظام، گلیشیئرز کی مسلسل نگرانی اور جدید جغرافیائی تجزیاتی نظام کے ذریعے ابتدائی انتباہی نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے، خطرات کی بروقت نشاندہی ممکن ہے اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے بہتر منصوبہ بندی اور شواہد پر مبنی فیصلے کیے جا سکتے ہیں۔

سیمپوزیم کے دوران سپارکو کے قومی ’’سپیس فار کلائمیٹ‘‘ اقدام پر خصوصی پریزنٹیشن بھی دی جائے گی، جبکہ جدید موسمیاتی معلوماتی پورٹلز کا عملی مظاہرہ بھی کیا جائے گا۔ ان پورٹلز میں پاکستان کے سیٹلائٹ اثاثوں، بشمول پاکستان ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ۔ون اور ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ صلاحیتوں سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی مدد سے گرین ہاؤس گیسوں، فضائی معیار، گلیشیئرز، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے، جنگلات، آبی وسائل، زمینی استعمال اور ساحلی ماحولیاتی نظام سمیت دیگر اہم موسمیاتی اشاریوں کی مسلسل نگرانی کی جاتی ہے۔

سپارکو کا کہنا ہے کہ یہ نظام قومی اور صوبائی اداروں کو بروقت اور قابلِ اعتماد معلومات فراہم کرتا ہے، جس سے شواہد پر مبنی پالیسی سازی، آفات سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ، قدرتی وسائل کے بہتر انتظام اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر حکمت عملی وضع کرنے میں مدد ملتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سپارکو کا بڑا انکشاف، سیٹلائٹ تصاویر سے 130 خطرناک برفانی جھیلیں سامنے آگئیں

سپارکو کے مطابق یہ سیمپوزیم پاکستان کی قومی موسمیاتی ترجیحات کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف، پیرس معاہدے اور سینڈائی فریم ورک برائے آفات کے خطرات میں کمی کے تحت کیے گئے عالمی وعدوں سے بھی ہم آہنگ ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ یہ اقدام خلائی سائنس اور جدید ٹیکنالوجی کو پرامن مقاصد، قومی ترقی، ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار مستقبل کے لیے بروئے کار لانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

Related Articles