آل پاکستان ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن کا 8 اگست سے ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کا اعلان

آل پاکستان ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن کا 8 اگست سے ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کا اعلان

آل پاکستان ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن نے آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کی جانب سے ہڑتال کے اعلان کی حمایت کرتے ہوئے 8 اگست سے ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ حکومتی پالیسیوں، بڑھتے ہوئے ٹیکسوں اور ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل ردوبدل نے ٹرانسپورٹ کے شعبے کو شدید مالی مشکلات سے دوچار کر دیا ہے، جس کے باعث کاروبار جاری رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔

نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کے عہدیداران نے کہا کہ ڈیزل کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی تبدیلیاں ٹرانسپورٹرز کے لیے ناقابل برداشت بن چکی ہیں۔ ان کے مطابق روزانہ بدلتی قیمتوں کے باعث کرایوں اور آپریشنل اخراجات کا درست تعین ممکن نہیں رہا، جس سے کاروباری منصوبہ بندی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایندھن کی قیمتوں کے تعین سے متعلق موجودہ پالیسی پر نظرثانی کی جائے۔

ٹول اور ود ہولڈنگ ٹیکس میں کمی کا مطالبہ

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ ٹول ٹیکس میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے تحت بعض روٹس پر فیس 250 روپے سے بڑھا کر 750 روپے تک کر دی گئی ہے، جبکہ ود ہولڈنگ ٹیکس میں اضافے نے بھی ٹرانسپورٹرز پر مالی بوجھ بڑھا دیا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ود ہولڈنگ ٹیکس کو موجودہ 7 فیصد سے کم کر کے 2 فیصد کیا جائے اور ٹول ٹیکس کو 2024 کی سطح پر واپس لایا جائے تاکہ ٹرانسپورٹ کے شعبے کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: 8 اگست سے ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال کا بڑا اعلان

غیر کسٹم شدہ سامان پر گاڑی ضبط کرنے کے قانون پر تحفظات

ایسوسی ایشن کے عہدیداران نے غیر کسٹم شدہ سامان سے متعلق موجودہ قانون پر بھی اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر کسی گاڑی میں ایک بھی غیر کسٹم شدہ کارٹن موجود ہو تو پوری گاڑی ضبط کیے جانے کی شق غیر منصفانہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی کی طرح ایسے معاملات میں صرف متعلقہ سامان پر کارروائی یا مقررہ جرمانہ عائد کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے تجویز دی کہ سابقہ طریقہ کار کے مطابق 20 فیصد جرمانہ وصول کرکے گاڑی چھوڑ دی جائے۔ رہنماؤں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ ایکسل لوڈ قوانین پر عمل درآمد کو بعض مقامات پر آمدنی کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔

مطالبات منظور نہ ہونے پر ملک گیر ہڑتال کی وارننگ

ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے کہا کہ موجودہ معاشی حالات میں ٹرانسپورٹرز اور ڈرائیورز کے لیے کاروبار جاری رکھنا انتہائی دشوار ہو چکا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات پر فوری توجہ نہ دی تو 8 اگست سے ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال کی جائے گی، جس سے ملک میں اشیائے ضروریہ اور صنعتی سامان کی ترسیل بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کی موٹروے پولیس حکام سے ملاقات

دوسری جانب آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر ملک شہزاد اعوان نے اپنے وفد کے ہمراہ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل موٹروے پولیس جاوید اکبر ریاض سے ملاقات کی۔ وفد میں ملک شبر خان، چوہدری قمر زمان گل، بختاور خان، محمد پناہ اور محمد رؤف بھی شامل تھے۔

ملک شہزاد اعوان کے مطابق ملاقات آئی جی موٹروے پولیس چوہدری سلطان کی ہدایت پر ہوئی، جس میں موٹروے پولیس کی جانب سے مبینہ ناجائز جرمانوں، ایکسل لوڈ قوانین پر عمل درآمد اور ٹرانسپورٹرز کو درپیش مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ایکسل لوڈ قوانین پر تمام گاڑیوں کے لیے بلاامتیاز، یکساں اور منصفانہ انداز میں سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔ اوور لوڈنگ کی روک تھام کے لیے موٹروے پولیس اپنا کردار مزید مؤثر بنائے گی، جبکہ 10 ویلر گاڑیوں کے لیے مناسب وزن کے تعین کے حوالے سے بھی تفصیلی مشاورت کی گئی۔

Related Articles