افغانستان میں بڑی مزاحمتی تحریک شروع، ہیبت اللہ حکومت کو خطرہ

افغانستان میں بڑی مزاحمتی تحریک شروع، ہیبت اللہ حکومت کو خطرہ

افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمتی گروہوں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہورہا ہے، جس کے باعث افغانستان میں بڑی مزاحمتی تحریک شروع ہونے  جارہی  ہے اس حوالے سے افغان شہریوں نے سوشل میڈیا مہم بھی شروع کردی، طالبان رجیم اب خطرے میں نظر آرہی ہے ۔

رپورٹس کے مطابق افغان باشندے طالبان حکومت کے بدترین مظالم اور طرز حکمرانی سے تنگ ہیں،افغانستان کے شہریوں کی طرف سے مسلح مزاحمت کے راستے اختیار کرنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :سویڈن میں طالبان رجیم کیخلاف افغان مہاجرین کا احتجاج، عالمی بائیکاٹ کا مطالبہ

افغان شہریوں کا موقف ہے کہ شہری آزادیوں اور طالبان کے مظالم کے باعث عوام میں بے چینی پائی جاتی ہے یہی عوامل مزاحمتی سرگرمیوں میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔

 افغانستان میں نئی مزاحمتی سرگرمیاں طالبان حکومت کے لیے ایک اہم چیلنج بن سکتی ہیں، طالبان شہریوں پر بیہمانہ مظالم ڈھا رہے ہیں،سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں افغان شہری کا کہنا ہے کہ ہم ان طالبان نے جان چھڑائیں گے اور ہم ان سے بدلہ لیں گے ۔

یوناماکی رپورٹ

اس سے قبل افغانستان کیلئے اقوامِ متحدہ کے امدادی مشن (یوناما) کی تازہ ترین رپورٹ نے میں بھی افغان عوام کی زبوں حالی، ریاستی جبر اور بنیادی انسانی حقوق کی منظم پامالیوں کا پردہ چاک کیا گیا تھا

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ طالبان رجیم میں افغان خواتین پر تعلیم، ملازمت اور آزادانہ نقل و حرکت کی پابندیاں پانچویں سال بھی برقرار ہیں، جبکہ افغانستان کے اروزگان، پکتیا، قندھار اور غزنی میں محرم کے بغیر خواتین کے علاج اور خریداری پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔

افغانستان میں خوف

افغانستان میں سخت میڈیا سنسرشپ برقرارہے، طالبان کے نئے فوجداری قوانین میں رجیم پر تنقید اور اختلافِ رائے کو قابلِ سزا جرم بنا دیا گیا ہے،افغان طالبان رجیم بنیادی آزادیوں کا گلا گھونٹ کر افغانستان میں خوف، خاموشی اور جبر کا نظام مسلط کیے ہوئے ہے، تاہم اب افغانستان کے شہری طالبان رجیم کے مظالم کے خلاف ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہیں ۔

editor

Related Articles