خیبرپختونخوا میں شہدا کے فنڈز سے بغیرمشاورت کے چار کروڑ کی لاگت سے خریدے گئے دو ڈرونز تاحال استعمال میں لائے جاسکے اور نہ ہی ریسکیو 1122 کے پاس ڈرون ٹیکنالوجی کواپریٹ کرنے کیلئے تجربہ کار عملہ موجود ہے جبکہ خریداری بیشتر اور کابینہ سے منظوری بعد میں لی گئی ہے۔
خریداری کیلئے ایڈوانس ادائیگی اور کابینہ کی منظوری
موجود دستیاب کے مطابق 27 جون 2025 کو خیبرپختونخوا میں سیلاب کے باعث ضلع سوات میں پنجاب سے تعلق رکھنے والی 13 ممبرز خاندان سیلابی ریلے میں بہہ گئی، جس کے بعد پروانشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ ( پی ڈی ایم اے ) نے گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ معاہدے کے زریعے 7 جولائی کو ایم او یو پر دستخط کردئیے، 8 جولائی 2025 کو دو ڈرونز کی 4 کروڑ روپے کی ادائیگی کردی، تاہم 21 جولائی کو ڈرونز پی ڈٰی ایم کے حوالے کردئیے گئے لیکن حیران کن طور پر صوبائی کابینہ سے 30 جولائی کو لیا گیا۔ یعنی ڈرونز کی ادائیگی اور وصولی کابینہ کی منظوری سے پہلے ہی مکمل ہو چکی تھی۔
ریسکیو 1122 سے مشاورت کے بغیر خریداری
پی ڈی ایم اے نے ڈرونز کا آرڈر دینے سے قبل ریسکیو 1122 سے یہ معلوم نہیں کیا کہ ریسکیو آپریشنز کے لیے کس قسم کے ڈرونز درکار ہیں۔ ابتدائی طور پر 80 سے 100 کلوگرام تک وزن اٹھانے کی صلاحیت رکھنے والے ڈرونز کی خریداری کی تجویز دی گئی تھی، تاہم یہ واضح نہیں کہ ان کی تکنیکی خصوصیات کس بنیاد پر طے کی گئیں اور آیا ان کا انتخاب کسی متعلقہ ماہر کی سفارش پر کیا گیا تھا۔
دستاویزات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ڈرونز موصول ہونے کے بعد ان کی جانچ پڑتال کے حوالے سے کوئی واضح انسپیکشن رپورٹ موجود نہیں، جس سے یہ معلوم ہو سکے کہ آیا موصول ہونے والے ڈرونز مطلوبہ خصوصیات اور معیار پر پورا اترتے تھے یا نہیں۔
چار کروڑ کے ڈرون، مگر اپریٹ کرنے والا کوئی ماہر نہیں
ذرائع کے مطابق دونوں ڈرونز سوات میں ریسکیو ادارے کے حوالے کیے گئے تھے، تاہم وہ فعال حالت میں نہیں تھے اور انہیں آپریٹ کرنے کے لیے تربیت یافتہ ماہر عملہ بھی موجود نہیں۔
ضلع سوات کے ریسکیو ترجمان نیاز نے تصدیق کی کہ ایک ڈرون سوات کے پاس موجود ہے جسے مرمت کے لیے بھیجا گیا ہے، جبکہ دوسرا ڈرون ان کے پاس موجود نہیں۔ ان کے مطابق ریسکیو 1122 کے پاس ڈرونز کو آپریٹ کرنے کے لیے کوئی ماہر بھی موجود نہیں تاہم ریسکیو ذرائع کے مطابق دونوں ڈرونز کو اس کمپنی کے پاس مرمت کیلئے بھیجا گیا تھا اور ساتھ میں ریسکیو عملہ کو اپریٹ کرنے کی ٹریننگ کیلئے بھی متعلقہ کمپنی سے بات کی گئی ہے۔
ہنگامی خریداری پر سوالات
دستاویزات کے مطابق سیلاب کے بعد ہنگامی بنیادوں پر مجموعی طور پر 70 کروڑ 85 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے مختلف آلات خریدنے کی تجویز دی گئی تھی، جس میں 80 سے 100 کلوگرام وزن اٹھانے والے 10 ڈرونز کی خریداری بھی شامل تھی۔ تاہم عملی طور پر صرف دو ڈرونز خریدے گئے، جن کے لیے چار کروڑ روپے ادا کیے گئے۔
دستاویزات میں ڈرونز کی خریداری کے طریقہ کار، ان کی تکنیکی خصوصیات، قیمت، معائنہ اور استعمال کے حوالے سے متعدد سوالات اٹھتے ہیں، خصوصاً اس صورت میں جب خریداری سے قبل متعلقہ ریسکیو ادارے سے مشاورت نہیں کی گئی اور خریداری کے بعد انہیں چلانے کے لیے تربیت یافتہ عملہ بھی دستیاب نہیں تھا۔ یہ معاملہ اس سوال کو بھی جنم دیتا ہے کہ ہنگامی حالات میں کروڑوں روپے خرچ کرکے خریدے جانے والے آلات کی ضرورت اور افادیت کا تعین کس بنیاد پر کیا گیا اور ان کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے۔
ذرائع کے مطابق دونوں ڈرونز ابتک ریسکیو 1122 نے استعمال بھی نہیں کئے ہیں اور نہ ہی انہیں اس قسم کے ڈرونز کی ضرورت ہے بلکہ ان کے پاس موجود سرویلنس ڈرونز کو اب استعمال میں اس لئے لایا گیا کیونکہ خیبرپختونخوا کے دریاوں پر 60 مقامات میں ریسکیو عملہ کو مون سون کے سیزن میں تعینات کیا گیا ہے تاکہ لوگوں کو نہانے نہ دیا جائے۔
اس بابت ریسکیو1122 کے ترجمان بلال فیضی کے مطابق چھوٹے ڈرونز ملازمین اپریٹ کرسکتے ہیں تاہم بڑے ڈرونز کو اپریٹ کرنے کیلئے عملہ کی تربیت جاری ہے۔