امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران سفارتی محاذ پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں امریکی انتظامیہ نے ایران کو معاشی ریلیف دینے پر مشروط آمادگی ظاہر کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق واشنگٹن ایران کے خلاف عائد بعض پابندیوں میں نرمی اور منجمد ایرانی اثاثوں تک رسائی دینے کے امکان پر غور کررہا ہے، تاہم اس کے بدلے تہران سے اپنے جوہری پروگرام کے معاملے پر ٹھوس پیش رفت اور قابلِ عمل اقدامات کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :ٹرمپ مذاکرات کے منتظر، تہران نے نیویارک میں ہی دروازہ بند کر دیا ، ایران کا امریکا کو دو ٹوک جواب
امریکی پیشکش ایسے وقت سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے بجائے ثالثوں کے ذریعے سفارتی رابطے جاری ہیں۔ قطر سمیت بعض علاقائی ممالک واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات کی ترسیل اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں کردار ادا کررہے ہیں۔
پابندیاں نرم کرنے کی بات
امریکی مؤقف کے مطابق ایران کو ملنے والی ممکنہ معاشی سہولتیں کسی حتمی معاہدے کا حصہ ہوں گی اور ان کا تعلق تہران کی جانب سے جوہری معاملے پر کیے جانے والے اقدامات سے ہوگا۔
ممکنہ ریلیف میں بعض پابندیوں میں نرمی، ایرانی تیل کی فروخت سے متعلق سہولتیں اور بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں تک رسائی جیسے اقدامات شامل ہوسکتے ہیں۔
تاہم واشنگٹن کی جانب سے یہ واضح کیا جارہا ہے کہ معاشی مراعات کے بدلے ایران کو جوہری پروگرام سے متعلق یقین دہانیاں اور عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
ایران بھی اپنی شرائط پر قائم
دوسری جانب تہران کا مؤقف ہے کہ امریکا کو بھی مذاکرات کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ایران سفارتی حل کا خواہاں ہے، تاہم تہران امریکی مؤقف کے باضابطہ جواب کا انتظار کررہا ہے۔
ایران کی جانب سے پابندیوں میں کمی اور منجمد اثاثوں کی بحالی کو اہم مطالبات میں شامل کیا گیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ اقتصادی دباؤ برقرار رکھتے ہوئے مذاکرات کو آگے بڑھانا آسان نہیں ہوگا۔
آبنائے ہرمز بھی مذاکرات کا حصہ
امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات کا ایک اہم مرکز آبنائے ہرمز بھی ہے۔ ایران نے آبنائے کو دوبارہ کھولنے کے معاملے کو امریکی اقدامات اور پابندیوں کے ساتھ جوڑ رکھا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :ایران جلد ہار مان جائے گا، تیل کی قیمتیں گر جائیں گی،ٹرمپ
تہران کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے اس کی شرائط پوری کرنا ضروری ہے، جبکہ واشنگٹن ایران سے جوہری پروگرام سمیت دیگر معاملات پر بھی رعایتیں چاہتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ مزید مذاکرات کی توقع ظاہر کیے جانے کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان کئی بنیادی معاملات پر اختلاف برقرار ہے۔


