ٹرمپ مذاکرات کے منتظر، تہران نے نیویارک میں ہی دروازہ بند کر دیا ، ایران کا امریکا کو دو ٹوک جواب

ٹرمپ مذاکرات کے منتظر، تہران نے نیویارک میں ہی دروازہ بند کر دیا ، ایران کا امریکا کو دو ٹوک جواب

ایران نے امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے نئے امکان کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شریک ایرانی وفد کی امریکی حکام سے ملاقات یا مذاکرات کا فی الحال کوئی پروگرام نہیں ہے۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے ایرانی وفد کے قریب ایک نامعلوم ذریعے کے حوالے سے یہ مؤقف سامنے رکھا ہے۔ تہران کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے رواں ہفتے ایران کے ساتھ مزید مذاکرات کی توقع ظاہر کی تھی۔

ٹرمپ کی امید، ایران کا انکار

ایرانی مؤقف نے دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی رابطوں کے حوالے سے ایک اہم تضاد نمایاں کردیا ہے۔ ایک طرف واشنگٹن کی جانب سے مذاکرات کی توقع ظاہر کی جارہی ہے، جبکہ دوسری جانب تہران نے نیویارک میں براہِ راست ملاقات کی کسی بھی منصوبہ بندی کی تردید کردی ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :سوئٹرز لینڈ میں ایران امریکہ مذاکرات کے بعد پاکستان اورقطر کا مشترکہ اعلامیہ جاری

یہ صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہوگئی جب ٹرمپ نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو سات روز کے اندر دوبارہ کھولنے سے متعلق پیشکش بھی مسترد کردی تھی۔

  سفارت کاری کا راستہ بند نہیں کیا

ایران کی جانب سے براہِ راست مذاکرات کی تردید کو سفارت کاری کے مکمل خاتمے کے طور پر نہیں دیکھا جارہا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ تہران اب بھی سفارتی حل چاہتا ہے۔

عراقچی کے مطابق ایران امریکی مؤقف کے باضابطہ جواب کا انتظار کر رہا ہے، جو ثالثوں کے ذریعے تہران تک پہنچایا جانا ہے۔ اس جواب کے موصول ہونے کے بعد ہی ایران اپنے اگلے اقدام کا فیصلہ کرے گا۔

اصل رابطہ نیویارک سے باہر

دونوں ملکوں کے درمیان موجودہ سفارتی رابطوں کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ ان میں براہِ راست ملاقات کے بجائے ثالثوں کا کردار نمایاں ہے۔ ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق قطر سمیت خطے کے بعض ممالک واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات پہنچانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :اقوام متحدہ کی ایران امریکہ امن معاہدے میں پاکستان کے کردار کی تعریف

اس کا مطلب یہ ہے کہ نیویارک میں ایرانی اور امریکی حکام کی ممکنہ ملاقات کے بجائے پسِ پردہ سفارتی چینلز اس وقت زیادہ اہمیت اختیار کرگئے ہیں۔

آبنائے ہرمز سب سے بڑا تنازع

ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات صرف مذاکرات کے طریقہ کار تک محدود نہیں۔ آبنائے ہرمز، جنگ بندی اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت کئی معاملات پر دونوں ملکوں کے مؤقف میں واضح فرق موجود ہے۔

تہران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے اس کی شرائط پوری کرنا ضروری ہے، جبکہ واشنگٹن ایران سے دیگر معاملات میں بھی رعایتیں حاصل کرنا چاہتا ہے۔

 

editor

Related Articles