سینئر تجزیہ کار منیب فاروق نے کہا ہے کہ نئے صوبوں سے متعلق معاملہ رکا نہیں بلکہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور اس حوالے سے آنے والی آئینی ترمیم پر پیش رفت جاری ہے۔
اپنے پوڈ کاسٹ میں منیب فاروق نے کہا کہ صوبوں کا معاملہ بیک برنر پر نہیں گیا بلکہ اس پر کام جاری ہے۔ بعض حلقوں کی جانب سے یہ رائے سامنے آ رہی ہے کہ صوبوں سے متعلق آئینی ترمیم میں کسی صوبے کی حدود اس کی اسمبلی کی قرارداد کے بغیر تبدیل نہیں کی جا سکتیں اور اس حوالے سے آئین کے آرٹیکل 239(4) کو نہیں چھیڑا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے یہ بھی گفتگو ہو رہی ہے کہ پہلے آئین کے آرٹیکل 239(4) کو ختم کیا جائے اور اس کے بعد اگلی آئینی ترمیم میں نئے صوبوں کے قیام کی بات کی جائے۔
منیب فاروق کے مطابق یہ بھی ممکن ہے کہ آرٹیکل 239(4) کو اسی ترمیم کے ذریعے ختم کیا جائے اور اسی ترمیم میں نئے صوبوں کے بارے میں بھی بات کر دی جائے۔
سینئر تجزیہ کار نے کہا کہ یہ اس حوالے سے زیر بحث نکات اور گفتگو ہیں، تاہم ان کے مطابق مجموعی احساس یہ ہے کہ اگر یہ سمجھا جا رہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے متعلق معاملے کے سامنے آنے کے بعد نئے صوبوں کا معاملہ پس منظر میں چلا گیا ہے تو ایسا نہیں ہے۔
منیب فاروق نے کہا کہ صوبوں کا معاملہ ’’پانچویں گیئر‘‘ میں چل رہا ہے اور اسے بھی حاصل کرنا ہے، جبکہ ان کے بقول اس نظام نے نئے صوبوں کے معاملے کو بھی اپنی ترجیحی فہرست میں رکھا ہوا ہے۔