پاکستان نے ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز میں 387 رنز بنا کر 43 رنز کی قیمتی برتری حاصل کر لی۔ عبداللہ شفیق نے ذمہ دارانہ اور طویل اننگز کھیلتے ہوئے ناقابل شکست 160 رنز اسکور کیے جبکہ بابر اعظم سنچری سے محض 12 رنز کی دوری پر آؤٹ ہوگئے۔
تیسرے روز پاکستان نے اپنی پہلی اننگز 2 وکٹوں کے نقصان پر 266 رنز سے دوبارہ شروع کی۔ کریز پر موجود بابر اعظم اور عبداللہ شفیق نے اننگز کو آگے بڑھانے کی کوشش کی تاہم گزشتہ روز کی عمدہ شراکت زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔
بابر اعظم نے 147 گیندوں پر 88 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی جس میں 10 چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔ وہ سنچری مکمل کرنے سے صرف 12 رنز قبل پویلین لوٹ گئے۔ ان کے آؤٹ ہونے کے بعد پاکستان کو مختصر وقفے میں مزید دو وکٹوں کا نقصان اٹھانا پڑا اور بیٹنگ لائن دباؤ میں آ گئی۔
اس مرحلے پر وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان نے عبداللہ شفیق کا ساتھ دیا۔ دونوں نے 25 رنز کی شراکت قائم کر کے ٹیم کا مجموعہ 300 رنز سے آگے پہنچایا۔ تاہم رضوان 18 رنز بنا کر جومیل واریکن کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔
رضوان کے بعد ساجد خان نے عبداللہ شفیق کے ساتھ مل کر محتاط انداز میں بیٹنگ کی اور دونوں نے 59 رنز کی اہم شراکت قائم کی۔ ساجد خان 71 گیندوں پر 30 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جبکہ علی عثمان 10 رنز بنا سکے۔ عبید شاہ اور محمد علی کھاتہ کھولے بغیر پویلین واپس لوٹ گئے۔
دوسری جانب عبداللہ شفیق نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 323 گیندوں پر ناقابل شکست 160 رنز کی اننگز کھیلی۔ ان کی ذمہ دارانہ بیٹنگ کی بدولت پاکستان نے پہلی اننگز میں 387 رنز بنائے اور ویسٹ انڈیز کی پہلی اننگز کے 344 رنز کے جواب میں 43 رنز کی برتری حاصل کر لی۔
اس سے قبل ویسٹ انڈیز نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا اور اپنی پہلی اننگز میں 344 رنز اسکور کیے تھے۔ پاکستان کی جانب سے ساجد خان نے چار وکٹیں حاصل کیں جبکہ عبید شاہ، محمد علی اور علی عثمان نے دو، دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
واضح رہے کہ دو میچوں کی سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں ویسٹ انڈیز نے پاکستان کو شکست دے کر سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل کر رکھی ہے، اس لیے دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان کے لیے کامیابی سیریز برابر کرنے کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔