ٹیم کی اجتماعی کارکردگی کے باعث فتح نصیب ہوئی، بابر اعظم

ٹیم کی اجتماعی کارکردگی کے باعث فتح نصیب ہوئی، بابر اعظم

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں شاندار کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیم کی اجتماعی کارکردگی ہی فتح کی اصل وجہ بنی۔ ان کا کہنا تھا کہ میچ سے قبل وکٹ کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا اور کوچنگ اسٹاف سے مشاورت کے بعد ٹیم میں چار اہم تبدیلیاں کی گئیں جن کے مثبت نتائج سامنے آئے۔

میچ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بابر اعظم نے کہا کہ ہر کامیابی ٹیم کے اعتماد میں اضافہ کرتی ہے اور بطور کپتان انہیں اس وقت سب سے زیادہ خوشی ہوتی ہے جب پوری ٹیم متحد ہو کر بہترین کھیل پیش کرے۔ انہوں نے کہا کہ ویسٹ انڈیز کی وکٹ کا جائزہ لینے کے بعد انہیں محسوس ہوا کہ یہ پاکستان کی پچز سے کافی حد تک مماثلت رکھتی ہے۔ اسی بنیاد پر کوچ کے ساتھ مل کر ٹیم کمبی نیشن تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

 یہ بھی پڑھیں :پاکستان نے دوسرے ٹیسٹ میں ویسٹ انڈیز کو 8 وکٹوں سے شکست دیدی

قومی کپتان نے فتح کا بڑا کریڈٹ اوپننگ بلے باز عبداللہ شفیق اور دونوں اسپنرز کو دیا۔ ان کے مطابق عبداللہ شفیق نے انتہائی ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کی اننگز کو مضبوط بنیاد فراہم کی جبکہ اسپنرز نے مخالف ٹیم پر مسلسل دباؤ برقرار رکھا اور اہم مواقع پر وکٹیں حاصل کرکے میچ پاکستان کے حق میں موڑ دیا۔

بابر اعظم نے کہا کہ سیریز سے قبل لگائے گئے خصوصی تربیتی کیمپ نے بھی کھلاڑیوں کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ کیمپ کے دوران بیٹنگ اور بولنگ دونوں شعبوں پر بھرپور توجہ دی گئی جس کا فائدہ ٹیم کو میدان میں نظر آیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کھلاڑی آئندہ میچوں میں بھی اسی جذبے اور نظم و ضبط کے ساتھ کھیل پیش کریں گے۔

دوسری جانب میچ میں 184 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر پلیئر آف دی میچ کا اعزاز حاصل کرنے والے عبداللہ شفیق نے کہا کہ ٹیم میں واپسی کے بعد انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے وہ اپنے کیریئر کا نیا آغاز کر رہے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند ٹیسٹ میچوں میں بیٹنگ یونٹ توقعات پر پورا نہیں اتر سکا تھا جس کے باعث وہ ایک بڑی اننگز کھیلنے کے لیے بے تاب تھے۔

 یہ بھی پڑھیں :پہلا ٹیسٹ میچ، محمد عباس نے بنگلا دیشی بیٹنگ لائن بکھیردی، بنگلہ ٹائیگرزکی پہلی اننگزختم

عبداللہ شفیق نے کہا کہ ان کی پوری توجہ اپنی ذاتی کارکردگی کے بجائے ٹیم کو کامیابی دلانے پر مرکوز تھی۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی کسی کھلاڑی کو اعتماد اور مسلسل مواقع ملتے ہیں تو وہ بہتر انداز میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر سکتا ہے۔ انہوں نے اس کامیابی کو ٹیم ورک کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے ساتھی کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف کا بھی شکریہ ادا کیا۔

پاکستانی ٹیم کی اس کامیابی نے نہ صرف سیریز میں اس کی پوزیشن مضبوط کی بلکہ کھلاڑیوں کے حوصلے بھی بلند کر دیے ہیں۔ کرکٹ شائقین کو امید ہے کہ قومی ٹیم آئندہ مقابلوں میں بھی اسی تسلسل کے ساتھ عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مزید کامیابیاں اپنے نام کرے گی۔

editor

Related Articles