پاکستان کرکٹ ٹیم نے ویسٹ انڈیز کو دوسرے ٹیسٹ میچ میں 8 وکٹوں سے شکست دے کر دو میچوں پر مشتمل سیریز ایک، ایک سے برابر کر دی۔
پورٹ آف اسپین میں کھیلے گئے مقابلے میں قومی ٹیم نے ہر شعبے میں عمدہ کھیل پیش کیا۔ اسپنرز نے ویسٹ انڈین بیٹنگ لائن کو دوسری اننگز میں سنبھلنے کا موقع نہ دیا جبکہ بیٹرز نے معمولی ہدف آسانی سے حاصل کر کے یادگار فتح اپنے نام کر لی۔ اس کامیابی کے ساتھ پاکستان نے بیرون ملک مسلسل آٹھ ٹیسٹ شکستوں کے بعد فتح کا انتظار بھی ختم کر دیا۔
میچ کے چوتھے روز ویسٹ انڈیز نے اپنی دوسری اننگز 103 رنز پر 6 کھلاڑی آؤٹ سے دوبارہ شروع کی۔ پاکستانی بولرز نے آغاز ہی سے میزبان ٹیم پر دباؤ برقرار رکھا اور صرف 14 رنز کے اضافے پر باقی تین وکٹیں بھی حاصل کر لیں۔ ویسٹ انڈیز کی پوری ٹیم 117 رنز پر آؤٹ ہو گئی۔ زخمی اوپنر برینڈن کنگ کمر کی تکلیف کے باعث بیٹنگ کے لیے میدان میں نہ آ سکے جس سے میزبان ٹیم کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
پاکستان کی جانب سے اسپنرز نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کیا۔ ساجد خان نے نپی تلی بولنگ کرتے ہوئے چار اہم وکٹیں حاصل کیں جبکہ علی عثمان نے بھی چار کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھا کر ویسٹ انڈین بیٹنگ لائن کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا۔
117 رنز پر ویسٹ انڈیز کی اننگز ختم ہونے کے بعد پاکستان کو فتح کے لیے صرف 75 رنز درکار تھے۔ قومی ٹیم نے اگرچہ ابتدائی دو وکٹیں گنوائیں تاہم اس کے بعد کپتان بابر اعظم اور عبداللہ شفیق نے ذمہ داری سے بیٹنگ کرتے ہوئے بغیر کسی مزید نقصان کے ہدف حاصل کر لیا۔
امام الحق 9 اور اذان اویس 18 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جبکہ عبداللہ شفیق 24 اور کپتان بابر اعظم 24 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے اور ٹیم کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔
میچ میں شاندار 184 رنز کی اننگز کھیلنے پر عبداللہ شفیق کو پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا۔ سیریز کے اختتام پر پاکستان کے کپتان بابر اعظم اور ویسٹ انڈیز کے جسٹن گریوز کو مشترکہ طور پر پلیئر آف دی سیریز کے اعزاز سے نوازا گیا۔
دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز ایک، ایک سے برابر ختم ہوئی تاہم پاکستان کے لیے یہ فتح کئی حوالوں سے اہم ثابت ہوئی۔ قومی ٹیم نے تقریباً تین برس بعد بیرون ملک ٹیسٹ میچ میں کامیابی حاصل کی۔ پاکستان نے اس سے قبل 2023 میں سری لنکا کو اسی کی سرزمین پر شکست دی تھی جس کے بعد اسے بیرون ملک مسلسل ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اب ویسٹ انڈیز کے خلاف اس کامیابی نے نہ صرف ٹیم کا اعتماد بحال کیا بلکہ مستقبل کی غیر ملکی ٹیسٹ سیریز کے لیے بھی مثبت پیغام دیا۔