بلوچستان دانا سر بائی پاس پر سیکیورٹی فورسز کا بڑا کریک ڈاؤن، انسانی اسمگلنگ کی کوشش ناکام، 103 غیر قانونی افغان باشندے گرفتار

بلوچستان دانا سر بائی پاس پر سیکیورٹی فورسز کا بڑا کریک ڈاؤن، انسانی اسمگلنگ کی کوشش ناکام، 103 غیر قانونی افغان باشندے گرفتار

بلوچستان کے ضلع شیرانی کے علاقے دانا سر میں سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے پاکستان کے راستے ایران اور یورپ جانے والے 103 غیر قانونی افغان باشندوں کو گرفتار کر کے انسانی اسمگلنگ کی بڑی کوشش ناکام بنا دی ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر سیکیورٹی فورسز نے ضلع شیرانی کے اہم علاقے دانا سر بائی پاس پر ایک مؤثر کارروائی کی۔

اس کارروائی کے دوران انسانی اسمگلروں کے چنگل میں پھنسے 103 غیر قانونی افغان باشندوں کو حراست میں لے لیا گیا۔ گرفتار ہونے والوں میں خواتین اور معصوم بچے بھی شامل ہیں جنہیں انتہائی غیر محفوظ اور کٹھن راستوں سے گزار کر لے جایا جا رہا تھا۔

یورپ جانے کا خواب اور قانونی کارروائی

ابتدائی تفتیش سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ تمام افراد انسانی اسمگلروں کے ایک منظم نیٹ ورک کے ذریعے پاکستان میں غیر قانونی طور پر داخل ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:بلوچستان : سیکیورٹی فورسز کی دشت میرانی میں کامیاب کارروائی، انسانی اسمگلنگ کی کوشش ناکام، 58 غیر قانونی افغان باشندے گرفتار

ان کا حتمی ہدف براستہ پاکستان، ایران اور پھر وہاں سے یورپ کا طویل اور خطرناک سفر طے کرنا تھا۔ تاہم سیکیورٹی اداروں کی بروقت کارروائی نے اس مذموم کوشش کو خاک میں ملا دیا۔ تمام گرفتار افراد کو مزید قانونی چارہ جوئی اور مکمل تفتیش کے لیے متعلقہ پولیس حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

سرحدوں پر کڑی نگرانی اور گرفتاریوں میں اضافہ

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں میں غیر قانونی نقل و حرکت کو روکنے کے لیے فورسز نے اپنا گھیرا مزید تنگ کر دیا ہے۔

 حالیہ کارروائی کے بعد محض ایک ہفتے کے دوران حراست میں لیے گئے غیر قانونی افغان باشندوں کی مجموعی تعداد 129 ہو چکی ہے۔

سیکیورٹی فورسز کی جانب سے انسانی اسمگلنگ کے خلاف مؤثر اور مسلسل اقدامات کا سلسلہ جاری ہے، جس کا بنیادی مقصد ملکی سرحدوں کو محفوظ بنانا اور قانون کی عملداری کو ہر صورت یقینی بنانا ہے۔

انسانی اسمگلنگ کا سنگین چیلنج

پاکستان کئی دہائیوں سے افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں خطے کی معاشی اور سیکیورٹی صورتحال کے باعث غیر قانونی ہجرت کے رجحان میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

انسانی اسمگلر غریب اور مجبور افراد کو یورپ کے سنہرے خواب دکھا کر بھاری رقوم بٹورتے ہیں اور انہیں ایران اور ترکیہ کے انتہائی دشوار گزار راستوں پر موت کے منہ میں دھکیل دیتے ہیں۔

بلوچستان کا طویل سرحدی علاقہ روایتی طور پر ایسے عناصر کے لیے ایک راہداری کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے، لیکن اب ریاستی اداروں نے اس ناسور کے خاتمے کے لیے ’زیرو ٹالرنس‘ پالیسی اپنا لی ہے اور غیر قانونی مقیم افراد کی واپسی کا باقاعدہ فریم ورک بھی نافذ العمل ہے۔

’قومی سلامتی اور بارڈر مینجمنٹ کی بڑی کامیابی‘

واضح رہے کہ دانا سر میں ہونے والی یہ کارروائی پاکستان کی بارڈر مینجمنٹ پالیسی کی ایک بڑی کامیابی ہے۔ انسانی اسمگلنگ صرف ایک غیر قانونی فعل نہیں، بلکہ یہ براہ راست قومی سلامتی سے جڑا ہوا ایک سنگین چیلنج ہے۔

اسمگلروں کے استعمال کردہ ان خفیہ روٹس کو اکثر اوقات دہشتگرد تنظیمیں اور منشیات فروش بھی اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

لہٰذا سیکیورٹی فورسز کی جانب سے غیر قانونی تارکین وطن کو پکڑنا اور اسمگلروں کے نیٹ ورکس کو توڑنا دراصل ملک کو دہشتگردی اور دیگر جرائم سے محفوظ رکھنے کی ایک جامع حکمت عملی کا حصہ ہے۔

متعلقہ اداروں کو ان گرفتار افراد سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر انسانی اسمگلنگ کے مقامی اور بین الاقوامی سرغنوں تک پہنچنا چاہیے تاکہ اس مکروہ دھندے کو جڑ سے اکھاڑا جا سکے۔

Related Articles