پنجاب حکومت نے صوبے کے مختلف اضلاع میں امن و امان اور سکیورٹی کے انتظامات میں معاونت کے لیے رینجرز کی خدمات طلب کرلی ہیں اس سلسلے میں صوبائی محکمہ داخلہ کی جانب سے وفاقی وزارت داخلہ کو باقاعدہ مراسلہ ارسال کیا گیا ہے۔
مراسلے کے مطابق راولپنڈی، اٹک، جہلم اور میانوالی میں پاکستان رینجرز کے دستے تعینات کرنے کی درخواست کی گئی ہے، جبکہ ان دستوں کی تعیناتی 5 اکتوبر 2026 تک جاری رکھنے کی سفارش کی گئی ہے یہ اقدامات آئندہ سیاسی سرگرمیوں اور ممکنہ احتجاج کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
حکومت پنجاب کی جانب سے راولپنڈی میں رینجرز کی 3 کمپنیوں کی خدمات طلب کی گئی ہیں جبکہ اٹک میں 5 ونگز تعینات کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح جہلم اور میانوالی میں رینجرز کی ایک، ایک کمپنی تعینات کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق رینجرز کی تعیناتی کی منظوری کابینہ کمیٹی برائے امن و امان کے 59ویں اجلاس میں دی گئی جس کے بعد صوبائی حکومت نے وفاقی وزارت داخلہ سے باضابطہ طور پر رینجرز کی خدمات حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیا۔
مراسلے میں رینجرز کی تعیناتی کے لیے آئین پاکستان کے آرٹیکل 245 انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعات 4 اور 5 اور پاکستان رینجرز آرڈیننس 1959 کی متعلقہ دفعات کا حوالہ دیا گیا ہے۔
پنجاب حکومت کے مطابق رینجرز کی خدمات پنجاب پولیس کی درخواست پر سکیورٹی انتظامات میں معاونت کے لیے طلب کی گئی ہیں۔ اس کا مقصد پولیس کے ساتھ مل کر امن و امان برقرار رکھنا اور کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے اضافی سکیورٹی فراہم کرنا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب راولپنڈی اٹک اور اسلام آباد سمیت مختلف علاقوں میں ممکنہ سیاسی احتجاج کے پیش نظر سکیورٹی انتظامات مزید سخت کیے جا رہے ہیں۔ اس سے قبل بھی راولپنڈی ڈویژن اور وفاقی دارالحکومت میں اضافی نفری طلب کیے جانے کی اطلاعات سامنے آچکی ہیں۔
رینجرز کی تعیناتی کی حتمی منظوری اور عملی تعیناتی وفاقی وزارت داخلہ کے طریقہ کار کے مطابق عمل میں آئے گی۔