پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ کمی کے بعد عوام کے لیے ایک اور خوشخبری سامنے آگئی ہے۔ حکومت نے مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی 2 روپے 36 پیسے فی لیٹر کمی کر دی ہے جس کے بعد اس کی نئی قیمت 291 روپے 43 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔
حکام کے مطابق نئی قیمت کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تبدیلی اور مقامی اقتصادی صورتحال کے تناظر میں صارفین کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔
مٹی کا تیل ملک کے دور دراز، پہاڑی اور سرد علاقوں میں اب بھی ایندھن کے طور پر وسیع پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کئی گھروں اور چھوٹے کاروباروں میں بھی یہ ایک اہم ضرورت سمجھا جاتا ہے۔ قیمت میں کمی سے ایسے صارفین کے ماہانہ اخراجات میں کچھ حد تک کمی آنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مٹی کے تیل کی قیمت کم ہونے سے گھریلو بجٹ پر مثبت اثر پڑ سکتا ہے خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں گیس کی فراہمی محدود ہے اور لوگ کھانا پکانے یا حرارت کے لیے مٹی کے تیل پر انحصار کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی کمی کا اعلان کیا تھا جسے عوامی حلقوں نے خوش آئند قرار دیا۔ تازہ فیصلے کے بعد یہ توقع بھی کی جا رہی ہے کہ اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں استحکام برقرار رہا تو آئندہ بھی صارفین کو مزید ریلیف مل سکتا ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں کمی سے نہ صرف گھریلو صارفین بلکہ بعض شعبوں کے آپریٹنگ اخراجات میں بھی کمی آسکتی ہے، جس کے مثبت اثرات مجموعی معیشت پر مرتب ہونے کی توقع ہے۔ تاہم مستقبل کی قیمتوں کا انحصار عالمی منڈی میں خام تیل کی صورتحال، روپے کی قدر اور حکومتی پالیسیوں پر ہوگا۔