پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے بعد سوشل میڈیا پر شاہ نعمت اللہ ولی سے منسوب پیش گوئیوں پر ایک بار پھر بحث شروع ہوگئی ہے، جہاں متعدد صارفین ان منسوب تحریروں کو حالیہ علاقائی پیش رفت سے جوڑ رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی مختلف پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ شاہ نعمت اللہ ولی نے صدیوں قبل برصغیر، خطے کی جنگوں اور بعض مسلم ممالک کے اتحاد سے متعلق پیش گوئیاں کی تھیں، جنہیں بعض صارفین موجودہ دفاعی تعاون کے تناظر میں بیان کر رہے ہیں۔
تاہم تاریخ اور اسلامی مطالعات کے متعدد ماہرین اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ شاہ نعمت اللہ ولی سے منسوب کئی پیش گوئیوں کی تاریخی حیثیت متنازع رہی ہے۔ ان تحریروں کے مختلف نسخے گردش میں ہیں اور ان کی اصل نسبت، تاریخِ تدوین اور مستند ماخذ پر علمی حلقوں میں اتفاقِ رائے موجود نہیں۔
اسی طرح بعض سوشل میڈیا پوسٹس میں ان منسوب تحریروں کو ’’غزوہ ہند‘‘ سے بھی جوڑا جا رہا ہے، تاہم اس حوالے سے پیش کیے جانے والے دعوے آزادانہ طور پر قابلِ تصدیق نہیں ہیں، اور انہیں کسی سرکاری یا مستند مذہبی ادارے نے حالیہ واقعات سے منسلک نہیں کیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تاریخی یا مذہبی شخصیات سے منسوب پیش گوئیوں کو موجودہ سیاسی اور عسکری حالات پر منطبق کرنے سے قبل ان کے مستند ماخذ اور تاریخی شواہد کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
مبصرین کے مطابق مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے بعد اگرچہ سوشل میڈیا پر اس نوعیت کی بحث میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، تاہم ان دعوؤں کو مصدقہ تاریخی یا مذہبی حقیقت قرار نہیں دیا جا سکتا۔