مکہ معاہدہ کی خوشی میں پاکستانیوں کا جشن ، ہر طرف تینوں ممالک کے پرچموں کی بہار

مکہ معاہدہ  کی خوشی میں پاکستانیوں کا  جشن ، ہر طرف تینوں ممالک کے پرچموں کی بہار

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان اہم دفاعی معاہدہ طے پانے پر تینوں برادر اسلامی ممالک میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور شہریوں نے مختلف مقامات پر جشن منا کر تاریخی پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔

پاکستان میں شہریوں کی جانب سے معاہدے پر بھرپور خوشی کا اظہار کیا گیا جبکہ سعودی عرب اور ترکیہ میں بھی عوام نے تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے نئے معاہدے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے جشن منایا۔

یہ بھی پڑھیں :مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کردار توجہ کا مرکز بن گیا

تینوں ممالک کی اہم شاہراہوں اور عوامی مقامات پر نصب بڑی ڈیجیٹل اسکرینوں پر معاہدے سے متعلق تصاویر اور ویڈیوز چلائی گئیں۔ رات کے وقت ان اسکرینوں پر پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے پرچم نمایاں ہونے سے خوبصورت منظر دیکھنے میں آیا۔

جشن کے دوران بڑی ڈیجیٹل اسکرینوں پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سمیت تینوں ممالک کے مختلف رہنماؤں اور وفود کی تصاویر بھی دکھائی گئیں۔ معاہدے کی خبر سامنے آنے پر وہاں موجود شہریوں نے خوشی کا اظہار کیا اور اسے برادر اسلامی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا۔

 یہ بھی پڑھیں :پاکستان سعودی عرب دفاعی معاہدہ ،ملک بھر کی مساجد میں یوم تشکر،خصوصی دعائیں

سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں نے بھی معاہدے کی خوشی میں بھرپور جشن منایا اور پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات اور تعاون کو سراہا۔

پاکستانیوں کی جانب سے تینوں ممالک کے درمیان دفاعی معاہدے کو خطے میں تعاون اور مشترکہ سلامتی کے لیے اہم قدم قرار دیا گیا۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ برادر اسلامی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون مضبوط ہونے سے خطے میں امن اور استحکام کی کوششوں کو بھی تقویت ملے گی۔

جشن کے دوران پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے پرچم ایک ساتھ نمایاں کیے جانے کے مناظر نے تینوں ممالک کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات کی عکاسی کی۔

 یہ بھی پڑھیں :مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں، خطے کے امن و استحکام کے لیے ہے: صدر رجب طیب اردوان

یاد رہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدہ طے پا چکا ہے جس کے تحت کسی ایک ملک کے خلاف ہونے والی جارحیت کو تینوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔

معاہدے کو تینوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سکیورٹی تعاون کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس معاہدے کا مقصد مشترکہ دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا اور سکیورٹی کے شعبے میں باہمی تعاون کو مزید فروغ دینا ہے۔

editor

Related Articles