پاکستان بیورو آف شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق ملک کے مختلف شہروں میں ایک ہفتے کے دوران آٹے کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ کراچی اور لاڑکانہ میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 100 روپے تک مہنگا ہونے کے بعد بالترتیب 3 ہزار اور 2 ہزار 600 روپے تک پہنچ گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق اسلام آباد میں شہری ملک کا مہنگا ترین آٹا خریدنے پر مجبور ہیں، جہاں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 3 ہزار 133 روپے ریکارڈ کی گئی۔ پشاور میں یہی تھیلا 3 ہزار 100 روپے جبکہ راولپنڈی میں 3 ہزار 93 روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔
بہاولپور میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2 ہزار 960 روپے جبکہ بنوں میں 2 ہزار 950 روپے تک پہنچ گئی۔ حیدرآباد، ملتان، سیالکوٹ اور گوجرانوالہ میں آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت 2 ہزار 800 روپے تک ریکارڈ کی گئی۔سرگودھا میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 2 ہزار 793 روپے جبکہ کوئٹہ میں 2 ہزار 750 روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سکھر میں ایک ہفتے کے دوران 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 60 روپے اضافہ ہوا، جس کے بعد نئی قیمت 2 ہزار 560 روپے تک پہنچ گئی۔ بنوں میں بھی ایک ہفتے کے دوران 50 روپے اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور قیمت 2 ہزار 950 روپے ہوگئی۔
کراچی میں 100 روپے اضافے کے بعد 20 کلو آٹے کا تھیلا 3 ہزار روپے تک پہنچ گیا جبکہ لاڑکانہ میں بھی 100 روپے اضافے کے بعد قیمت 2 ہزار 600 روپے ریکارڈ کی گئی۔
دوسری جانب لاہور اور فیصل آباد میں آٹے کی قیمت ملک کے دیگر بڑے شہروں کے مقابلے میں نسبتاً کم ہے۔ لاہور میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 2 ہزار 300 روپے جبکہ فیصل آباد میں 2 ہزار 200 روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔
آٹے کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے شہریوں کے روزمرہ اخراجات مزید بڑھ گئے ہیں، جبکہ کم آمدنی والے طبقے کے لیے بنیادی غذائی ضرورت کی قیمت میں مسلسل اضافہ گھریلو بجٹ پر اضافی دباؤ کا باعث بن رہا ہے۔