ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی طویل عرصے سے عوامی منظرنامے سے غیر حاضری کے باعث ان کی صحت سے متعلق نئی قیاس آرائیاں سامنے آئی ہیں۔ ایرانی صدر مسعود پزیشکیان کی جانب سے موجودہ حالات میں سپریم لیڈر سے ملاقات اور براہ راست رابطے کو مشکل قرار دیے جانے کے بعد ان قیاس آرائیوں میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران مخالف ویب سائٹ ایران وائر نے دعویٰ کیا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای گزشتہ فروری میں ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد سے ایرانی کابینہ کے کسی رکن سے براہ راست ملاقات نہیں کرسکے۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ حالیہ عرصے میں کسی اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے ان سے براہ راست ملاقات کرنے کی تصدیق نہیں کی۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزیشکیان کی بھی مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات ہوئے کئی ماہ گزر چکے ہیں۔ ایران وائر نے پزیشکیان کی انتظامیہ سے قریبی تعلق رکھنے والے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ حکومتی حلقوں میں سپریم لیڈر کی صحت کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے۔
ذرائع سے منسوب رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومتی سطح پر مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت سے متعلق مختلف قیاس آرائیاں گردش کر رہی ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
ایران وائر کی رپورٹ میں ایک ذریعے کے حوالے سے یہاں تک دعویٰ کیا گیا ہے کہ حکومتی حلقوں میں مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت انتہائی تشویشناک ہونے کی چہ مگوئیاں بھی موجود ہیں۔
تاہم اس حوالے سے نہ ایرانی حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ تصدیق سامنے آئی ہے اور نہ ہی کسی آزاد ذریعے نے ان دعوؤں کی تصدیق کی ہے۔ اس لیے مجتبیٰ خامنہ ای کی موجودہ طبی حالت کے بارے میں سامنے آنے والی اطلاعات کو فی الحال غیرمصدقہ دعووں کے طور پر ہی دیکھا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے مارچ میں سپریم لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد سے اب تک کسی عوامی تقریب میں شرکت نہیں کی۔ ان کی جانب سے کوئی ویڈیو یا آڈیو خطاب بھی سامنے نہیں آیا جبکہ سرکاری ذرائع ابلاغ کی جانب سے ان سے منسوب تحریری بیانات ہی نشر کیے جاتے رہے ہیں۔
اس سے قبل بعض غیرمصدقہ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ فروری میں ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے دوران مجتبیٰ خامنہ ای زخمی ہوئے تھے۔ تاہم ایرانی حکام نے ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کی۔ایران وائر کی جانب سے سامنے آنے والی حالیہ رپورٹ پر ایرانی حکومت یا سپریم لیڈر کے دفتر کی طرف سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔