ٹیچنگ ہسپتالوں میں گریڈ 17 کی سرکاری نوکریاں ، نئی آسامیوں پر بھرتی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے جس کے تحت ہسپتال مانیٹرنگ آفیسر پروکیورمنٹ اسپیشلسٹ اور مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن اسسٹنٹ کی اسامیوں پر امیدواروں کی تقرریاں کی جائیں گی۔
مذکورہ آسامیوں پر ابتدائی طور پر تین سالہ کنٹریکٹ کی بنیاد پر بھرتیاں کی جائیں گی جبکہ امیدواروں کی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے کنٹریکٹ میں مزید توسیع بھی کی جا سکے گی۔
ہسپتال مانیٹرنگ آفیسر
ہسپتال مانیٹرنگ آفیسر کی اسامی کے لیے ہسپتال مینجمنٹ ہیلتھ سروسز مینجمنٹ بزنس ایڈمنسٹریشن یا پبلک ایڈمنسٹریشن میں ڈگری لازمی قرار دی گئی ہے۔
مینجمنٹ کی ڈگری رکھنے والے ڈاکٹرز بھی اس عہدے کے لیے درخواست دینے کے اہل ہوں گے۔ اس اسامی کا بنیادی مقصد ہسپتالوں میں انتظامی امور کارکردگی اور مختلف نظاموں کی نگرانی کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
پروکیورمنٹ اسپیشلسٹ کی اسامی کے لیے سپلائی چین مینجمنٹ کامرس یا فنانس میں ماسٹرز ڈگری اے سی سی اے یا اس کے مساوی تعلیمی قابلیت رکھنے والے امیدوار درخواست دے سکیں گے۔
امیدوار کی ڈگری ایچ ای سی سے تسلیم شدہ ادارے سے ہونا ضروری قرار دیا گیا ہے جبکہ متعلقہ شعبے میں کم از کم پانچ سال کا پیشہ ورانہ تجربہ بھی لازمی ہوگا۔
اس عہدے کے ذریعے ہسپتالوں میں خریداری، سپلائی چین اور مالی و انتظامی امور سے متعلق نظام کو مزید منظم بنانے پر توجہ دی جائے گی۔
مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن اسسٹنٹ
مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن اسسٹنٹ کی اسامی کے لیے بزنس ایڈمنسٹریشن پبلک ایڈمنسٹریشن فنانس پبلک ہیلتھ شماریات ہیلتھ مینجمنٹ یا انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ڈگری رکھنے والے امیدوار اہل ہوں گے۔
اس عہدے کے لیے متعلقہ شعبے میں کم از کم دو سال کا پیشہ ورانہ تجربہ ضروری قرار دیا گیا ہے۔
مذکورہ اسامی پر تعینات افراد ہسپتالوں میں مختلف منصوبوں، انتظامی سرگرمیوں اور کارکردگی سے متعلق اعداد و شمار کی نگرانی اور جائزے کے عمل میں معاونت کریں گے۔
تین سالہ کنٹریکٹ، توسیع کا بھی امکان
بھرتی کیے جانے والے امیدواروں کی ابتدائی تقرری تین سال کے کنٹریکٹ پر ہوگی۔ تاہم ملازمین کی کارکردگی تسلی بخش ہونے کی صورت میں کنٹریکٹ میں مزید ایک مدت کے لیے توسیع بھی کی جا سکے گی۔
نئی آسامیوں کا مقصد ٹیچنگ ہسپتالوں میں انتظامی نگرانی، خریداری کے نظام، کارکردگی کے جائزے اور مانیٹرنگ کے عمل کو مزید مؤثر بنانا ہے تاکہ ہسپتالوں کے انتظامی اور سروس ڈیلیوری نظام میں بہتری لائی جا سکے