قاضی جواد الرحمٰن نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ پاکستان میں بی بی سی کے آن لائن مواد اور پروگراموں کے ذریعے پاکستانی معاشرے اور نوجوان نسل کے بارے میں منفی تاثر اجاگر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک ماضی میں مختلف اداروں کے ذریعے پاکستان میں اپنے مخصوص ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوشش کرتے رہے ہیں، جبکہ بی بی سی بظاہر آزادیٔ صحافت اور انسانیت کی بات کرتا ہے، تاہم اس کے بعض مواد اور پروگراموں کے حوالے سے مختلف حلقوں کی جانب سے تحفظات سامنے آتے رہے ہیں۔
پاکستانی معاشرے کا تاثر
انہوں نے کہا کہ بعض فرضی کہانیوں اور کرداروں کے ذریعے پاکستان کے بارے میں ایسے تصورات پیش کیے جا رہے ہیں جو ملک کے زمینی حقائق کی مکمل عکاسی نہیں کرتے، پاکستانی معاشرے اور نوجوانوں سے متعلق بعض موضوعات کو ایسے انداز میں پیش کیا جاتا ہے جس سے ملک اور معاشرے کا منفی تاثر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
قاضی جواد الرحمٰن کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ محض چند انفرادی مواد تک محدود نہیں بلکہ ایک طویل عرصے سے جاری رجحان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
اقدار کے تحفظ پر زور
قاضی جواد الرحمٰن نے مزید کہا کہ پاکستانی معاشرے کی اسلامی، تہذیبی اور اخلاقی اقدار کا تحفظ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہےاس سلسلے میں والدین، علماء، تعلیمی اداروں اور معاشرے کے دیگر ذمہ دار طبقات کو نوجوان نسل کی رہنمائی کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے ۔
انہوں نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ بی بی سی کے ایسے مواد اور پاکستان سے متعلق سرگرمیوں کا فوری اور مؤثر جائزہ لیا جائے اور اگر کسی مواد میں ملکی قوانین کی خلاف ورزی سامنے آئے تو قانون کے مطابق ضروری اقدامات کیے جائیں۔