غیر ملکی انویسٹرز پاکستان سرمایہ کاری کریں، تحفظ کے لیے قانونی ڈھانچے میں اہم تبدیلیاں لا رہے ہیں، اعظم نذیر تارڑ

غیر ملکی انویسٹرز پاکستان سرمایہ کاری کریں، تحفظ کے لیے قانونی ڈھانچے میں اہم تبدیلیاں لا رہے ہیں، اعظم نذیر تارڑ

وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان میں نجی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے قانونی نظام میں جامع اصلاحات کی جا رہی ہیں، معاہدوں پر تیز رفتار، منصفانہ اور قابلِ پیش گوئی عمل درآمد سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانے کے لیے ناگزیر ہے، جبکہ حکومت کاروباری سہولتوں، تجارتی تنازعات کے فوری حل اور سرمایہ کاری کے قانونی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے متعدد اقدامات پر کام کر رہی ہے۔

واشنگٹن میں عالمی قانون، انصاف اور ترقی فورم 2026 کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے نجی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے درکار قانونی اصلاحات سے متعلق وزارتی گول میز اجلاس میں بھی شرکت کی۔

عالمی فورم میں پاکستان کی نمائندگی، 40 سے زیادہ وزرا کی شرکت

عالمی قانون، انصاف اور ترقی فورم 2026 کا انعقاد ورلڈ بینک گروپ کے ہیڈکوارٹرز واشنگٹن میں کیا گیا، جس میں دنیا کے مختلف ممالک سے 40 سے زیادہ وزرا اور اعلیٰ قانونی قیادت نے شرکت کی۔

فورم میں قانون، انصاف، معاشی ترقی اور نجی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے قانونی و ادارہ جاتی اصلاحات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:عمران خان مکمل صحتمند، رہائی کا فورم عدالت ہے حکومت نہیں‘، اعظم نذیر تارڑ کا پی ٹی آئی کو دو ٹوک پیغام

وفاقی وزیر اعظم نذیر تارڑ نے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے سرمایہ کاروں کے لیے سازگار قانونی ماحول کی اہمیت اجاگر کی اور بتایا کہ حکومت کاروباری سرگرمیوں کو آسان بنانے، معاہدوں کے نفاذ کو مؤثر بنانے اور سرمایہ کاری کے تحفظ کے لیے اصلاحاتی اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے وزارتی گول میز اجلاس میں اس امر پر زور دیا کہ نجی سرمایہ کاری صرف مراعات یا مالی سہولتوں سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے مضبوط قانونی نظام، شفاف طریقہ کار اور ریاستی اداروں پر اعتماد بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

سرمایہ کاروں کا اعتماد معاہدوں پر مؤثر عملدرآمد سے جڑا ہے

سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے اپنے خطاب میں کہا کہ نجی سرمایہ کاری کا بنیادی انحصار اعتماد پر ہوتا ہے اور سرمایہ کار اسی ماحول میں طویل مدتی سرمایہ کاری کا فیصلہ کرتے ہیں جہاں معاہدوں پر تیز رفتار، منصفانہ اور قابلِ پیش گوئی انداز میں عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر سرمایہ کاروں کو اپنے قانونی حقوق کے تحفظ اور تنازعات کے منصفانہ حل کی ضمانت حاصل ہو تو سرمایہ کاری کے فیصلوں میں غیر یقینی صورتحال کم ہوتی ہے۔

وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ انصاف کے نظام میں اصلاحات کو محض عدالتی یا قانونی شعبے تک محدود نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ یہ معاشی اصلاحات کا بھی ایک اہم جزو ہیں۔

ان کے مطابق مؤثر عدالتی نظام، شفاف قوانین اور کاروباری تنازعات کے فوری حل سے نہ صرف سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھتا ہے بلکہ ملکی معیشت میں نجی شعبے کی سرگرمیوں کو بھی تقویت ملتی ہے۔

آسان کاروبار قانون اور ون ونڈو بزنس پورٹل متعارف

وفاقی وزیر نے عالمی شرکا کو پاکستان میں کاروباری ماحول بہتر بنانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت نے کاروباری سرگرمیوں کو سہل بنانے کے لیے آسان کاروبار قانون، ون ونڈو بزنس پورٹل اور سرمایہ کاروں کے لیے ون اسٹاپ شاپ جیسے اقدامات پر پیش رفت کی ہے۔

ان سہولتوں کا بنیادی مقصد کاروبار شروع کرنے اور سرمایہ کاری کے لیے درکار مختلف سرکاری مراحل کو آسان بنانا، متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ بہتر کرنا اور سرمایہ کاروں کو ایک مربوط نظام کے تحت ضروری خدمات فراہم کرنا ہے۔

ون ونڈو نظام کے ذریعے کاروباری افراد کو مختلف محکموں کے چکر لگانے اور متعدد انتظامی مراحل سے گزرنے کی مشکلات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، جبکہ سرمایہ کاروں کے لیے ون اسٹاپ شاپ کا تصور مختلف سرکاری سہولتوں تک ایک ہی مقام سے رسائی فراہم کرنے کے لیے اہم ہے۔

غیر ملکی سرمایہ کاری کے تحفظ کے لیے 2022 کا قانون اہم قرار

اعظم نذیر تارڑ نے پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے تحفظ کے قانونی انتظامات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ فارن انویسٹمنٹ پروموشن اینڈ پروٹیکشن ایکٹ 2022 بڑی غیر ملکی سرمایہ کاری کے تحفظ کے لیے اہم قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔

ان کے مطابق یہ قانون پاکستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے والے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے مفادات کے تحفظ اور سرمایہ کاری کے لیے قانونی یقین دہانیوں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

وفاقی وزیر نے عالمی شرکا کو بتایا کہ حکومت سرمایہ کاری کے لیے موجود قانونی ڈھانچے کو مزید مؤثر بنانے اور کاروباری ماحول میں استحکام پیدا کرنے کے لیے اصلاحاتی عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔

کمپنیز ایکٹ میں ترامیم، فوجداری سزاؤں کی جگہ مالی جرمانوں کی تجویز

وفاقی وزیر نے کمپنیز ایکٹ میں مجوزہ ترامیم کی تفصیلات بھی پیش کیں، جن کے تحت متعدد فوجداری سزاؤں کی جگہ مالی جرمانے متعارف کرانے اور آن لائن فائلنگ کے نظام کو فروغ دینے کی تجویز شامل ہے۔

اس مجوزہ اصلاح کا مقصد کاروباری اداروں کے لیے قانونی اور انتظامی تقاضوں کو آسان بنانا اور غیر ضروری پیچیدگیوں میں کمی لانا ہے۔

آن لائن فائلنگ کے نظام سے کمپنیوں کو متعلقہ دستاویزات جمع کرانے اور قانونی تقاضے پورے کرنے میں سہولت مل سکتی ہے، جبکہ بعض خلاف ورزیوں پر فوجداری کارروائی کے بجائے مالی جرمانوں کا طریقہ اختیار کرنے سے کاروباری سرگرمیوں پر انتظامی دباؤ کم کرنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔

یہ اصلاحات کاروباری ضابطوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور کمپنیوں کے لیے زیادہ سہل قانونی ماحول پیدا کرنے کی حکومتی کوششوں کا حصہ ہیں۔

تجارتی تنازعات کے فوری حل کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کرنے پر کام

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پاکستان میں تجارتی تنازعات کے فوری اور مؤثر حل کے لیے خصوصی تجارتی عدالتوں کے قیام، ثالثی کے نظام کو مضبوط بنانے اور نئے ثالثی ایکٹ کی تیاری پر کام جاری ہے۔

ان کے مطابق کاروباری تنازعات کے فیصلوں میں غیر ضروری تاخیر سرمایہ کاری کے ماحول کو متاثر کر سکتی ہے، اس لیے ایسے قانونی طریقہ کار کی ضرورت ہے جو تجارتی معاملات کو کم وقت میں حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

مزید پڑھیں:وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا عندیہ دے دیا

خصوصی تجارتی عدالتوں کا قیام کاروباری اور سرمایہ کاری سے متعلق مقدمات کو زیادہ توجہ اور تخصص کے ساتھ نمٹانے میں مددگار ہو سکتا ہے۔

اسی طرح ثالثی کا نظام فریقین کو روایتی عدالتی کارروائی کے علاوہ ایک متبادل قانونی راستہ فراہم کرتا ہے، جس کے ذریعے باہمی تنازعات کو نسبتاً تیز رفتار اور کم پیچیدہ طریقے سے حل کیا جا سکتا ہے۔

وفاقی وزیر کے مطابق حکومت اس شعبے میں قانونی اصلاحات کو آگے بڑھا رہی ہے تاکہ سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کو تنازعات کے حل کے لیے زیادہ قابلِ اعتماد نظام میسر آ سکے۔

پاکستان نے سنگاپور کنونشن پر دستخط کر دیے، توثیق کے لیے قانون سازی جاری

وفاقی وزیر نے عالمی فورم کو بتایا کہ پاکستان نے سنگاپور کنونشن آن میڈی ایشن پر دستخط کر دیے ہیں، جبکہ اس کی توثیق کے لیے ضروری قانون سازی کی تیاری جاری ہے۔

یہ کنونشن بین الاقوامی تجارتی تنازعات کے حل میں ثالثی کے ذریعے طے پانے والے تصفیوں کو قانونی حیثیت اور سرحد پار نفاذ کی سہولت فراہم کرنے سے متعلق ہے۔

اس کی توثیق کے لیے متعلقہ قانون سازی مکمل ہونے سے پاکستان میں بین الاقوامی کاروباری تنازعات کے متبادل حل کے نظام کو تقویت مل سکتی ہے۔

یہ پیش رفت عالمی سرمایہ کاروں کے لیے بھی اہم ہے، کیونکہ بین الاقوامی کاروبار میں تنازعات کے حل اور معاہدوں کے نفاذ کا قابلِ اعتماد طریقہ کار سرمایہ کاری کے فیصلوں پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔

پاکستان عالمی سرمایہ کاری کے لیے کھلا ہے، عالمی شراکت داروں کو اصلاحات میں تعاون کی پیشکش

سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ پاکستان عالمی سرمایہ کاری کے لیے کھلا ہے اور حکومت بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ اپنے قانونی اصلاحاتی تجربات شیئر کرنے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے، کاروباری سہولتوں کی فراہمی اور قانونی تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے اصلاحات جاری رکھے ہوئے ہے۔

ان کے مطابق عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعاون اور تجربات کے تبادلے سے پاکستان کو اپنے قانونی و ادارہ جاتی نظام کو مزید بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

قانونی اصلاحات اور سرمایہ کاری

پاکستان میں سرمایہ کاری کے فروغ کا معاملہ صرف ٹیکس مراعات، سستی زمین یا دیگر مالی سہولتوں تک محدود نہیں۔ کسی بھی سرمایہ کار کے لیے یہ جاننا بنیادی اہمیت رکھتا ہے کہ اس کے معاہدوں کا احترام ہوگا، کاروباری تنازع کی صورت میں اسے بروقت انصاف ملے گا اور سرکاری اداروں کے ساتھ معاملات شفاف طریقے سے طے کیے جا سکیں گے۔

اسی تناظر میں خصوصی تجارتی عدالتوں، ثالثی کے نظام، کمپنیز ایکٹ میں ترامیم اور کاروباری سہولتوں کے لیے ڈیجیٹل اقدامات اہمیت رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:عمران خان کے دور میں بنی گالا میں آسٹریلوی سرمایہ کار کی آمد، خیبرپختونخوا کے معدنیات میں سرمایہ کاری کی کوششیں، اسد عمر کا انکشاف

تاہم ان اصلاحات کے حقیقی نتائج کا انحصار ان کے عملی نفاذ پر ہوگا۔ قوانین میں تبدیلی کے ساتھ عدالتی استعداد، ادارہ جاتی ہم آہنگی، مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کا خاتمہ اور انتظامی شفافیت بھی ضروری ہے۔

خصوصاً سنگاپور کنونشن کی توثیق کے لیے قانون سازی اور تجارتی تنازعات کے حل کے متبادل نظام کو مؤثر بنانا پاکستان کے بین الاقوامی کاروباری روابط کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔

عالمی سرمایہ کاروں کے سامنے پاکستان کا اصلاحاتی خاکہ پیش کرنا ایک اہم سفارتی اور معاشی قدم ہے، تاہم مستقل سرمایہ کاری اسی وقت حاصل ہو سکے گی جب اعلان کردہ اصلاحات عملی طور پر نافذ ہوں اور سرمایہ کاروں کو ان کے فوائد واضح طور پر نظر آئیں۔

Related Articles