ملک بھر کے بجلی صارفین کو سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں ملنے والا بڑا ریلیف رواں ماہ ختم ہونے جا رہا ہے ایک دن بعد نیپرا اس حوالے سے اہم فیصلہ کرے گا موجودہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت صارفین کو 1 روپے 99 پیسے فی یونٹ کمی کا ریلیف دیا جا رہا ہے جس کے ختم ہونے کا امکان ہے
ذرائع کے مطابق جنوری سے مارچ 2026 کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت ملک بھر کے بجلی صارفین کو مجموعی طور پر 67 ارب 17 کروڑ روپے سے زائد کا ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے یہ ریلیف جون 2026 سے نافذ کیا گیا تھا اور اس کی تین ماہ کی مدت رواں ماہ اگست میں مکمل ہوجائے گی۔
موجودہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مدت ختم ہونے کے بعد اپریل سے جون 2026 کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ اگلے ماہ یعنی ستمبر سے لاگو کیے جانے کا امکان ہے۔ اس نئی ایڈجسٹمنٹ کے نتیجے میں بجلی صارفین کے لیے فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے نئی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی وصولی کے لیے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) سے رجوع کرلیا ہے۔ تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے نیپرا میں جمع کرائی گئی درخواست میں صارفین سے 23 ارب روپے سے زائد اضافی رقم وصول کرنے کی اجازت مانگی گئی ہے۔
تقسیم کار کمپنیوں کی درخواست کے مطابق یہ رقم صارفین سے وصول کی گئی تو اس کا اوسط اثر تقریباً ایک روپے فی یونٹ اضافے کی صورت میں سامنے آسکتا ہے۔ تاہم یہ بات حتمی نہیں ہے کیونکہ نیپرا درخواست، متعلقہ اعداد و شمار اور بجلی کی اصل لاگت کا جائزہ لینے کے بعد حتمی فیصلہ کرے گا۔
اس صورتحال میں صارفین کے لیے اہم سوال یہ ہے کہ موجودہ 1 روپے 99 پیسے فی یونٹ ریلیف ختم ہونے کے بعد نئی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں اصل اضافہ کتنا ہوگا۔ اس کا حتمی تعین نیپرا کی جانب سے سماعت اور درخواست کے جائزے کے بعد کیا جائے گا۔
سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے بجلی کی پیداواری لاگت ایندھن کی قیمتوں بجلی کی خریداری اور دیگر متعلقہ اخراجات میں ہونے والی تبدیلیوں کو صارفین کے بلوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔ اسی طریقہ کار کے تحت اگر کسی مدت میں بجلی کی لاگت کم ہو تو صارفین کو ریلیف بھی مل سکتا ہے جبکہ لاگت میں اضافے کی صورت میں اضافی رقم ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے وصول کی جاتی ہے۔
موجودہ صورتحال میں اگست کے بعد صارفین کو ایک طرف سابقہ سہ ماہی ریلیف سے محروم ہونا پڑے گا جبکہ دوسری جانب نئی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت اضافی رقم بھی عائد ہوسکتی ہے۔ اس کے باعث ستمبر سے بجلی کے بلوں پر مجموعی مالی دباؤ بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
کراچی سمیت ملک بھر کے بجلی صارفین اب نیپرا کے فیصلے کے منتظر ہیں۔ اگر نیپرا تقسیم کار کمپنیوں کی درخواست منظور کرتا ہے تو ستمبر سے بجلی کے بلوں میں نئی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ شامل کی جائے گی، تاہم حتمی فی یونٹ اضافہ نیپرا کے فیصلے کے بعد ہی واضح ہوگا۔
واضح رہے کہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کا اطلاق بجلی کے بنیادی ٹیرف سے الگ ہوتا ہے، اس لیے صارفین کے بل پر اصل اثر کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ نیپرا کتنی رقم فی یونٹ کی بنیاد پر صارفین سے وصول کرنے کی منظوری دیتا ہے۔