وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے کے کم آمدن والے گھرانوں اور پینے کے صاف پانی سے محروم علاقوں کو ترجیحی بنیادوں پر صاف پانی فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے پنجاب کی تاریخ کے سب سے بڑے واٹر سپلائی منصوبے کا آغاز کر دیا ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پنجاب کے ہر فرد اور ہر گھر کو پینے کا صاف پانی فراہم کیا جائے گا، انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ صاف پانی کے ذرائع سے محروم علاقوں، بالخصوص کم آمدن والے گھرانوں کو منصوبے میں ترجیح دی جائے۔
منصوبے کے تحت ابتدائی مرحلے میں پنجاب کے نارتھ، سینٹرل اور ساؤتھ زونز کے 6 اضلاع میں پائلٹ پراجیکٹ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،پہلے مرحلے میں لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی، چکوال، راجن پور اور مری کا انتخاب کیا گیا ہے، جہاں پائپ لائنز کے ذریعے شہریوں کو پینے کا صاف پانی فراہم کیا جائے گا۔
محروم علاقوں میں فوری پانی پہنچانے کا حکم
وزیراعلیٰ نے پانی کی شدید کمی اور آلودگی سے متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر پانی کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے، ایسے علاقوں میں فلٹریشن پلانٹس، بوتل بند پانی اور باؤزرز یعنی واٹر ٹینکرز کے ذریعے پانی پہنچایا جائے گا۔
مریم نواز نے ڈی سی راجن پور اور ڈی سی چکوال سے ان کے اضلاع میں پانی کی دستیابی کے حوالے سے فوری رپورٹ بھی طلب کرلی ہے تاکہ ضرورت مند علاقوں میں بروقت اقدامات کیے جا سکیں۔
منصوبے کی پائیداری پر بھی غور
اجلاس کے دوران صاف پانی کے منصوبے کو طویل مدت تک مؤثر انداز میں جاری رکھنے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی تجویز کا بھی جائزہ لیا گیا،اس کے علاوہ سرکاری بوٹل واٹر پلانٹس کو ان کی مکمل استعداد کے مطابق فعال رکھنے کے احکامات جاری کیے گئے تاکہ صاف پانی کی فراہمی کا سلسلہ مؤثر انداز میں جاری رہ سکے۔
دور دراز علاقوں میں بھی پانی کی فراہمی
وزیراعلیٰ مریم نواز نے کوہِ سلیمان کے دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں بوتل بند پانی کی کامیاب فراہمی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ ٹیموں کی کارکردگی کو سراہا۔
انہوں نے واسا، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو باہمی رابطے کے ساتھ منصوبے پر کام کرنے اور اس کی فوری، شفاف اور مؤثر تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ صاف پانی ہر شہری کی بنیادی ضرورت ہے اور حکومت پنجاب اس سہولت کو صوبے کے ہر گھر تک پہنچانے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گی۔