وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے قومی میڈیا پر گفتگو کرتے ہوئے بھی اپنی حکومت پر عائد کرپشن کے الزامات کو مسترد، وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کالے چینلز کا رونا دھونا کیا ۔
سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ سب سے زیادہ کرپٹ لوگ وفاقی حکومت میں بیٹھے ہوئے ہیں جبکہ خیبرپختونخوا کے حوالے سے صرف ’’کالے چینلز‘‘ اور ان کے کرتا دھرتا الزامات عائد کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ اگر ان پر لگائے جانے والے الزامات کے ٹھوس ثبوت سامنے لائے جائیں تو وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے لیے تیار ہیں تاہم قبل ازیں بھی انہیں متعدد بار ثبوت پیش کیے گئے لیکن پر اس پر وزیر اعلیٰ کے پی کی طرف سے اپنے وزرا کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا ۔
نجی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو کے دوران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے ان الزامات سے متعلق سوال کیا گیا کہ وہ مبینہ طور پر عمران خان کے نام پر پیسے وصول کرتے ہیں جبکہ صوبائی کابینہ کے بعض ارکان پر بھی کرپشن کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔
سہیل آفریدی سے ان کے صوبے سے متعلق سوال کیا گیا کہ9 میں اپنا کوئی ایک منصوبہ بتادیں جس پر سہیل آفریدی خیالی منصوبے گنوانا شروع ہوگئے ،اور کرپشن سے متعلق الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کے پاس ان کے خلاف کرپشن یا مالی بے ضابطگی کے حوالے سے کوئی ثبوت موجود ہے تو وہ اسے سامنے لائے، ان کا کہنا تھا کہ الزامات کی بنیاد پر کسی کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے ثبوت پیش کیے جانے چاہئیں۔
انٹرویو کے دوران جب صوبائی وزرا پر مبینہ کرپشن کے الزامات سے متعلق سوال کیا گیا تو وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے جواب دیتے ہوئے بعض میڈیا پلیٹ فارمز کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ سارا معاملہ ’’کالے چینلز ’’کی جانب سے کیا جا رہا ہے اور میرے اور میری حکومت کیخلاف منفی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے اپنے انٹرویو میں مجموعی طور پر اپنی حکومت اور وزیروں کے خلاف سامنے آنے والے الزامات کوسوالات کو ٹالتے ہوئے کالے چینلز کا زکر کر کے بات آگے بڑھا دی جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دال میں کچھ ضرور کالا ہے ۔