آزاد کشمیر انتخابات، تیسرے مرحلے کے غیر حتمی نتائج

آزاد کشمیر انتخابات، تیسرے مرحلے کے غیر حتمی نتائج

آزاد کشمیر انتخابات کے تیسرے مرحلے کی پولنگ ختم ہونے کے بعد مختلف حلقوں سے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج موصول ہونے کا سلسلہ جاری ہے، تازہ غیر حتمی نتائج کے مطابق بعض حلقوں میں امیدواروں کی پوزیشن میں تبدیلی آئی ہے اور مختلف جماعتوں کے امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے۔موصول ہونے والے تازہ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق حلقہ ایل اے 14، ایل اے 15، ایل اے 16 اور ایل اے 17 میں امیدواروں کی ابتدائی پوزیشن سامنے آگئی ہے۔

ایل اے 14

حلقہ ایل اے 14 کے مجموعی 214 پولنگ اسٹیشنز میں سے 101 کے غیر حتمی نتائج موصول ہوچکے ہیں،تازہ نتائج کے مطابق عوامی دست و بازو پارٹی کے امیدوار ساجد اقبال 22 ہزار 337 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر ہیں، جبکہ مسلم کانفرنس کے امیدوار سردار عتیق خان 10 ہزار 355 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں،مسلم لیگ (ن) کے امیدوار راجہ فیصل کو 929 ووٹ جبکہ پیپلزپارٹی کے امیدوار مبشر اعجاز کو 590 ووٹ ملے ہیں۔3

یہ بھی پڑھیں :آزاد کشمیرا لیکشن،ایل اے 27 اورایل اے 28 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج

ایل اے 15 وسطی باغ

حلقہ ایل اے 15 وسطی باغ کے 81 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج بھی سامنے آگئے ہیں،تازہ غیر حتمی نتائج کے مطابق جماعت اسلامی کے امیدوار راجا محمود خان 8 ہزار 783 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر ہیں۔

پیپلزپارٹی کے امیدوار سردار ضیاالمقر 5 ہزار 128 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر جبکہ مسلم لیگ (ن) کے امیدوار مشتاق منہاس 4 ہزار 611 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر ہیں۔

ایل اے 16

حلقہ ایل اے 16 کے مجموعی 186 پولنگ اسٹیشنز میں سے 11 کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج موصول ہوئے ہیں،ابتدائی نتائج کے مطابق پیپلزپارٹی کے امیدوار قمر الزمان 1 ہزار 440 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر ہیں، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سردار میر اکبر خان 1 ہزار 414 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں،آئی پی پی کے امیدوار اعجاز احمد کو 13 ووٹ ملے ہیں۔

ایل اے 17 حویلی

ایل اے 17 باغ/حویلی میں پیپلزپارٹی کے امیدوار فیصل ممتاز راٹھور اپنے حریف مسلم لیگ (ن) کے امیدوار چوہدری محسن عزیز سے 5 ہزار 968 ووٹوں کی برتری کے ساتھ آگے ہیں ابتدائی نتائج میں حریف کو فیصل ممتاز راٹھور پر برتری حاصل تھی تاہم فیصل ممتاز راٹھور نے بازی پلٹ دی۔

 تازہ ترین صورتحال اور بڑا اپ سیٹ

 غیر حتمی  نتائج کے مطابق ایل اے 14 باغ میں عوامی دست و بازو پارٹی کے امیدوار ساجد اقبال اپنے حریف اور سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر  مسلم کانفرنس کے سردار عتیق احمد خان پر  فیصلہ کن  برتری سے آگے ہیں214 پولنگ سٹیشنز میں سے 136 کے پولنگ سٹیشنز کے رزلٹ کے مطابق عوامی دست وبازو پارٹی کے ساجد عباسی 28981ووٹ لیکر پہلے نمبرپر ہیں جبکہ سردار عتیق 14966 ووٹ لیکر دوسرے نمبر ہیں،حلقے میں ساجد عباسی کی جیت کا جشن بھی شروع ہوگیا ہے تاہم ابھی کچھ پولنگ سٹیشنز کے نتائج آنا باقی ہیں ۔

 سردار عتیق مقابلہ ہارتے ہیں تو یہ آزاد کشمیر کا بڑا سیاسی اپ سیٹ ہےکیونکہ یہ سیٹ سردار عتیق کی آبائی سیٹ ہے اور اس سیٹ پر وہ مخالف سے کبھی شکست نہیں کھائے تاہم اب غیر حتمی نتائج کے مطابق ایل اے 14 باغ میں ساجد اقبال نے اپنے مدِمقابل سردار عتیق احمد خان کے مقابلے میں نمایاں برتری حاصل کرلی ہے۔

ایل اے 17 میں فیصل راٹھور آگے

اس حلقے میں فیصل ممتاز راٹھور کی نمایاں لیڈ نے مقابلے کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے، تاہم مزید نتائج سامنے آنے کے بعد پوزیشن تبدیل ہونے کا امکان موجود ہے۔

ایل اے 15 میں ضیاالمقر کی برتری

ایل اے 15 باغ میں پیپلزپارٹی کے امیدوار ضیاالمقر مسلم لیگ (ن) کے امیدوار مشتاق احمد منہاس کے مقابلے میں 2 ہزار 400 ووٹوں کی برتری کے ساتھ پہلے نمبر پر ہیں۔

لائیو نتائج کے مطابق ضیاالمقر کی برتری اس وقت 2 ہزار 400 ووٹ ہے، تاہم پولنگ اسٹیشنز کے مزید نتائج آنے کے ساتھ یہ فرق کم یا زیادہ ہوسکتا ہے۔

ایل اے 16 میں معمولی فرق

ایل اے 16 باغ میں پیپلزپارٹی کے امیدوار قمر الزمان خان اور مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سردار میر اکبر خان کے درمیان مقابلہ نسبتاً سخت ہے،غیر حتمی  نتائج کے مطابق قمر الزمان خان کو سردار میر اکبر خان پر 903 ووٹوں کی برتری حاصل ہے۔

ہزاروں ووٹوں کی لیڈ نے صورتحال دلچسپ بنا دی

 اب تک کے غیر حتمی نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ ایل اے 14 اور ایل اے 17 میں امیدواروں نے اپنے مخالفین پر نمایاں برتری حاصل کر رکھی ہے، جبکہ ایل اے 15 اور ایل اے 16 میں بھی امیدوار آگے ہیں لیکن مزید نتائج فیصلہ کن ثابت ہوسکتے ہیں۔

 غیر حتمی انتخابی نتائج کے مطابق اس وقت ایل اے 14 میں ساجد اقبال، ایل اے 15 میں ضیاالمقر، ایل اے 16 میں قمر الزمان خان اور ایل اے 17 میں فیصل ممتاز راٹھور اپنے اپنے حلقوں میں برتری حاصل کیے ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ یہ  غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج ہیں۔ مزید پولنگ اسٹیشنز کے نتائج موصول ہونے کے بعد امیدواروں کی پوزیشن اور ووٹوں کی برتری میں تبدیلی آسکتی ہے، جبکہ حتمی نتیجہ متعلقہ انتخابی حکام کی جانب سے جاری کیا جائے گا۔

editor

Related Articles