ہالی وڈ کے معروف اداکار سلویسٹر اسٹالون نے جنگوں کو بے وقوفی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنگیں دونوں فریقوں کو تباہ کرتی ہیں، جبکہ اس کی سب سے بڑی قیمت نوجوان فوجیوں کو اپنی جان اور جسم کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں 80 سالہ اداکار سے سوال کیا گیا کہ کیا 1980 کی دہائی کی مشہور ایکشن فلم ریمبو ان کی ذاتی سوچ اور نظریات کی عکاسی کرتی تھی؟
اس سوال کے جواب میں سلویسٹر اسٹالون نے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ان کی سوچ تبدیل ہوئی ہے اور اب وہ سمجھتے ہیں کہ جنگیں بنیادی طور پر تباہی کا باعث بنتی ہیں۔
ان کے مطابق جنگ میں دونوں جانب کے لوگ متاثر ہوتے ہیں۔ نوجوان فوجی اپنی جانیں گنواتے ہیں، اپنے جسم کے اعضا سے محروم ہوتے ہیں اور جنگ کے بعد انہیں زندگی بھر اس کے اثرات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔
’اگر حملہ ہو تو دفاع ضروری ہے‘
سلویسٹر اسٹالون نے واضح کیا کہ اگر کسی ملک پر حملہ کیا جائے تو اسے اپنا دفاع ضرور کرنا چاہیے، تاہم ان کے نزدیک جنگ کو ایک مستقل حل سمجھنا درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگیں صرف موجودہ نسل کو متاثر نہیں کرتیں بلکہ ان کے اثرات کئی نسلوں تک جاری رہتے ہیں۔ دشمنیاں جنم لیتی ہیں، ممالک تباہ ہوتے ہیں اور سرحدوں کی لکیریں دوبارہ کھینچی جاتی ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر یہ سب کس مقصد کے لیے ہوتا ہے؟
’جنگی صنعت کے لیے دولت، نوجوانوں کے لیے تباہی‘
اداکار نے جنگی صنعت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جنگیں جنگی اداروں اور ہتھیار بنانے والی کمپنیوں کے لیے بڑے پیمانے پر مالی فوائد کا ذریعہ بن سکتی ہیں، جبکہ میدان جنگ میں نوجوان اپنی جانیں اور جسم قربان کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب کوئی فوجی جنگ سے جسمانی معذوری کے ساتھ واپس آتا ہے تو اکثر اسے اپنی باقی زندگی خود سنبھالنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے، جسے وہ انتہائی افسوسناک سمجھتے ہیں۔
سلویسٹر اسٹالون نے اعتراف کیا کہ ایک وقت میں وہ جنگ کے پُرجوش حامی تھے، تاہم بعد میں ان کی سوچ تبدیل ہوئی۔ ان کے مطابق ماضی میں جنگ کے بارے میں ان کا تصور دراصل نادانی پر مبنی تھا۔ وقت کے ساتھ انہیں احساس ہوا کہ جنگ انتہائی سفاک اور خوفناک عمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ میں کوئی شان یا بہادری نہیں ہوتی۔ ریمبو کے ذریعے جنگی میدان کے ایک سخت جان کردار کے طور پر دنیا بھر میں شہرت حاصل کرنے والے سلویسٹر اسٹالون کا یہ مؤقف اس بات کی مثال ہے کہ وقت کے ساتھ انسان کے خیالات اور جنگ کے بارے میں اس کا تصور کس طرح تبدیل ہو سکتا ہے۔