ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درازندہ میں ایک اور حملے کی اطلاعات ہیں، جہاں خودکش حملے کے زخمیوں کو منتقل کرنے والی ریسکیو 1122 کی ایمبولینس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق ریسکیو 1122 کی ایمبولینس زخمیوں کو درازندہ سے ڈیرہ اسماعیل خان منتقل کر رہی تھی کہ اسے حملے کا نشانہ بنایا گیا۔
اطلاعات کے مطابق حملے کے نتیجے میں ریسکیو 1122 کے 2 اہلکار شہید ہوگئے۔
ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درازندہ میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں 11 افراد شہید جبکہ پولیس اہلکاروں، کسٹمز حکام اور عام شہریوں سمیت 30 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔
ذرائع کے مطابق دھماکا ڈی آئی خان-کوئٹہ روڈ پر واقع انسدادِ اسمگلنگ ’امن میلہ پولیس چیک پوسٹ‘ پر ہوا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بارود سے بھری گاڑی (VBIED) انسدادِ اسمگلنگ چیک پوسٹ سے ٹکرائی گئی، جس کے بعد انتہائی شدید نوعیت کا دھماکا ہوا۔
ذرائع کے مطابق دھماکے میں مجموعی طور پر 11 افراد نے جامِ شہادت نوش کیا، جن میں 6 پولیس اہلکار، 2 کسٹمز اہلکار، 2 خواتین اور ایک 2 سالہ بچہ شامل ہے۔
دھماکے کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں، کسٹمز حکام اور عام شہریوں سمیت 30 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق زخمیوں میں بعض کی حالت تشویشناک ہے، جس کے باعث شہداء کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع نے انسدادِ اسمگلنگ چیک پوسٹ پر حملے کو دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر، خصوصاً اسمگلرز، کے گٹھ جوڑ کا واضح ثبوت قرار دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق خوارج کی جانب سے ایک بار پھر سیکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کو حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
دوسری جانب مقامی لوگوں میں خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے دہشت گردی سے لاتعلقی اور بے حسی پر شدید غصہ اور بے چینی پائی جاتی ہے،