ریڈیو پاکستان حملہ کیس،سہیل آفریدی پر تاحیات نااہلی کی تلوار لٹک گئی، گرفتاربھی کیا جاسکتاہے، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ شبیر حسین گگیانی

ریڈیو پاکستان حملہ کیس،سہیل آفریدی  پر تاحیات نااہلی کی تلوار لٹک گئی، گرفتاربھی کیا جاسکتاہے، ایڈووکیٹ  سپریم کورٹ شبیر حسین گگیانی

  ایڈووکیٹ سپریم کورٹ شبیر حسین گگیانی نے  کہاہے کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو مختلف مقدمات کے باعث قانونی مشکلات کا سامنا ہے اور بعض کیسز میں عدالتی کارروائی کے نتیجے میں ان کی تاحیات نااہلی بھی ہو سکتی ہے۔

آزاد ڈیجیٹل کے نمائندہ حسام الدین سے گفتگو کرتے ہوئے شبیر حسین گگیانی نے کہا کہ ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں خیبر پختونخوا کابینہ کے بعض ارکان سمیت وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے ملوث ہونے کا معاملہ بھی زیرِ بحث ہے، جس کے قانونی اثرات سامنے آ سکتے ہیں اور وہ تاحیات نااہلی کے ساتھ گرفتار بھی ہوسکتے ہیں۔

شبیر حسین گگیانی کے مطابق ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں کابینہ کے ارکان اور سہیل آفریدی کے خلاف موجود قانونی معاملات اہمیت رکھتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی مقدمے میں جرم ثابت ہو جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں قانون کے تحت سزا اور دیگر قانونی کارروائی عمل میں آ سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :9 مئی ریڈیو پاکستان کیس، سہیل آفریدی کیلئے بڑی قانونی مشکل؟ شبیر گگیانی کا اہم انکشاف

ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے کہا کہ سہیل آفریدی کے خلاف ایسے کیسز موجود ہیں جن کے نتائج ان کے سیاسی مستقبل پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، بعض حالات میں عدالت کسی شخص کو نااہل قرار دے سکتی ہے، جبکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بھی قانون کے مطابق نااہلی کی کارروائی کا اختیار حاصل ہے،شبیر حسین گگیانی نے مزید کہا کہ مقدمات کی نوعیت اور قانونی مراحل کے مطابق سہیل آفریدی کو گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے۔

ایڈووکیٹ شبیر حسین گگیانی نے تاحیات نااہلی کے امکان کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کیس میں قانون کے تحت ایسی سزا یا نااہلی کی شرائط پوری ہوتی ہیں تو اس کے سیاسی اثرات طویل المدت ہو سکتے ہیں۔

سہیل آفریدی کے خلاف مقدمات اور ان سے متعلق قانونی معاملات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خیبر پختونخوا کی سیاست میں سیاسی اور قانونی تنازعات جاری ہیں۔ ایڈووکیٹ سپریم کورٹ کے بیان نے وزیراعلیٰ کے مستقبل سے متعلق بحث کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

editor

Related Articles