پی ٹی آئی ’نان کسٹم پیڈ گاڑی‘، کچھ بھی کر لے اٹک سے آگے نہیں جا سکتی، سابق صوبائی وزیر امجد آفریدی

پی ٹی آئی ’نان کسٹم پیڈ گاڑی‘، کچھ بھی کر لے اٹک سے آگے نہیں جا سکتی، سابق صوبائی وزیر امجد آفریدی

سابق صوبائی وزیر امجد آفریدی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کو ’نان کسٹم پیڈ گاڑی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ایمرجنسی یا گورنر راج نہیں چاہتا لیکن پی ٹی آئی کی غلط پالیسیوں، کرپشن، دہشتگردوں سے روابط اور بدانتظامی کے باعث خیبر پختونخوا کا امن تباہ ہوا اور صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے حالات پیدا ہو چکے ہیں۔

آزاد ڈیجیٹل کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں سابق صوبائی وزیر امجد آفریدی نے پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی حیثیت اور انتظامی صلاحیت پر شدید تنقید کی ہے۔ 

انہوں نے پی ٹی آئی کو ایک منفرد تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ ’پی ٹی آئی نان کسٹم پیڈ گاڑی کی مانند ہے جو اٹک ٹول پلازہ سے پار جانے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتی‘۔

یہ بھی پڑھیں:گورنر راج پر مشاورت مکمل، پیپلزپارٹی کا گرین سگنل،سہیل آفریدی کیخلاف چارج شیٹ فائنل،طارق آفاق کا دعویٰ

ان کا کہنا تھا کہ علی امین گنڈاپور کے دور سے لے کر اب تک وہ اپنے تمام ٹاک شوز اور پریس کانفرنسز میں مسلسل یہی مؤقف اپناتے آئے ہیں کہ اس پارٹی کا سیاسی دائرہ کار اور اثر و رسوخ اٹک سے آگے بڑھ ہی نہیں سکتا۔

102 ملزمان کی رہائی اور سوات کے حالات 

امجد آفریدی نے 2013 کے حالات سے موجودہ صورتحال کا تقابل کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور اے این پی کی مشترکہ حکومت نے سوات میں شدید سیکیورٹی بحران اور عوامی نقل مکانی کے باوجود ایک پرامن اور مستحکم صوبہ پی ٹی آئی کے حوالے کیا تھا۔

 تاہم آج حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ صوبے میں روز مرہ کی بنیاد پر دھماکے ہو رہے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت گرفتار شدہ 102 خطرناک ملزمان کو سابق صدر مملکت عارف علوی کے دستخطوں سے رہا کیا گیا، جن میں ’بچر آف سوات‘ جیسے انتہائی مجرم بھی شامل تھے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ان افراد کو جیلوں سے رہا کرنے کا کیا مقصد تھا؟

دہشتگردوں سے روابط اور ویڈیو لیکس کے دعوے

سابق صوبائی وزیر نے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف کی قیادت کا سیاسی و نظریاتی جھکاؤ ہمیشہ سے دہشتگرد عناصر کے لیے نرم گوشہ رکھتا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کے ماضی کے بیانات، ویڈیو کلپس اور ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیں  تو ان کے دہشتگردوں کے لیے نرم گوشہ اور روابط بالکل واضح ہو جاتے ہیں۔

مزید پڑھیں:پختونخوا میں گورنر راج کیلئے مشاورت، پی ٹی آئی کی لانگ مارچ کی کوئی تیاری نہیں، جلد راہ فرارکا اعلان ہوگا: فیصل کنڈی

انہوں نے ڈیرہ اسماعیل خان سے پی ٹی آئی کے رکن صوبائی اسمبلی اور پارٹی رہنما شفیع جان کی حال ہی میں لیک ہونے والی ویڈیو کالز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان تمام شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ پردے کے پیچھے کیا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔

گورنر راج کا امکان اور صوبائی حکومت کی کارکردگی

صوبے میں آئینی ایمرجنسی یا گورنر راج کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں امجد آفریدی نے واضح کیا کہ وہ ذاتی طور پر گورنر راج یا ایمرجنسی کے حامی نہیں ہیں، مگر پی ٹی آئی کی قیادت کی پالیسیاں، اقدامات اور منفی طرزِ عمل خود اس کو دعوت دے رہا ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ گزشتہ اڑھائی سالوں کے دوران حکومت کی تمام تر توجہ ترقیاتی کاموں کے بجائے قومی اداروں کی مخالفت، صوبائی مفادات کی تباہی اور بے تحاشا کرپشن پر مرکوز رہی ہے۔

سہیل آفریدی کی حکمرانی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ صرف مالی فائدے اور بدعنوانی کے لیے اقتدار میں آئے ہیں، ان کا نظم و نسق اور گڈ گورننس سے کوئی تعلق نہیں اور ان کا طرزِ عمل ان کی سیاسی عقل و فہم کے بالکل برعکس ہے۔

انہوں نے سہیل آفریدی کو مزید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کا حکومت چلانے سے کوئی تعلق نہیں، انہوں نے اپنے سائز سے بڑے جوتے پہن رکھے ہیں جس کی وجہ سے لگتا ہے ان کی عقل پاؤں میں چلی گئی ہے۔

واضح رہے کہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہے، تاہم حالیہ سالوں میں سیکیورٹی چیلنجز کی واپسی اور وفاق کے ساتھ جاری مسلسل سیاسی محاذ آرائی نے انتظامی ڈھانچے کو شدید متاثر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا میں گورنر راج کی نہیں قومی یکجہتی کی ضرورت ہے، فیصل کریم کنڈی

ماضی کی حکومتوں کا یہ مؤقف رہا ہے کہ انہوں نے دہشتگردوں کے خلاف نبرد آزما ہو کر صوبے کو امن فراہم کیا تھا، جبکہ موجودہ حالات میں قومی سلامتی کے حساس موضوعات اور سیاسی بیانیے آپس میں الجھ چکے ہیں۔

سیاسی قائدین کی جانب سے سنگین الزامات اور سیکیورٹی معاملات میں اداروں سے عدم تعاون کی بنیاد پر بحث اس بات کی دلالت کرتی ہے کہ صوبے میں سیاسی اور انتظامی خلا خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ 

جب امن و امان سے جڑے حساس فیصلوں پر اتفاقِ رائے کے بجائے سیاسی محاذ آرائی کو ترجیح دی جائے، تو اس کے نتائج براہ راست عوام اور معاشی استحکام پر مرتب ہوتے ہیں۔

Related Articles