وزیراعظم شہباز شریف کے اہم مشیروں اور حکومتی ٹیم کے سینئر ارکان کے اجلاس میں خیبر پختونخوا کی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال، صوبائی حکومت اور وفاق کے درمیان جاری کشیدگی اور پی ٹی آئی کے 4 اکتوبر کے مجوزہ مارچ پر تفصیلی غور کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں ایمرجنسی اور گورنر راج سمیت مختلف آئینی آپشنز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ حکومتی حلقوں میں یہ رائے سامنے آئی کہ آئندہ چند روز میں پی ٹی آئی کے طرزعمل کو دیکھا جائے اور خاص طور پر یہ جائزہ لیا جائے کہ آیا پارٹی 4 اکتوبر کا مارچ منسوخ کرتی ہے یا اپنی سیاسی حکمت عملی میں کوئی نمایاں تبدیلی لاتی ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ موجودہ صورتحال میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سیاسی راستہ اختیار کرنے کی گنجائش موجود ہے اگر پی ٹی آئی اپنے طرز سیاست میں تبدیلی نہیں لاتی تو حکومت ان کے خلاف سخت اقدامات کرے گی۔
ذرائع کے مطابق حکومت خاص طور پر یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ پی ٹی آئی اسلام آباد میں ممکنہ احتجاج کے دوران سڑکوں کی بندش، شہری معمولات میں خلل اور ریاستی اداروں کے ساتھ کشیدگی سے متعلق اپنے طرزعمل میں کیا تبدیلی لاتی ہے۔
دوسری جانب 4 اکتوبر کے مارچ کے معاملے پر پی ٹی آئی کے اندر بھی مختلف آرا سامنے آچکی ہیں۔ پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے سیکریٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے پارٹی قیادت کو خط لکھ کر مارچ مزید مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی اور سکیورٹی صورتحال اور ممکنہ آئینی اقدامات کے خدشات کا حوالہ دیا تھا۔ تاہم پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں نے مارچ کو برقرار رکھنے کا مؤقف اختیار کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگر پی ٹی آئی کی جانب سے مثبت ردعمل سامنے آتا ہے اور 4 اکتوبر کا مارچ منسوخ کیا جاتا ہے تو حکومت اور پارٹی کے درمیان متعدد معاملات کو سیاسی اور انتظامی ذرائع سے حل کرنے کی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق ان معاملات میں پی ٹی آئی کے بانی عمران خان تک رسائی سے متعلق امور بھی شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان سے ملاقاتوں، وکلا اور اہل خانہ تک رسائی کے معاملات پر سہولت فراہم کرنے پر غور کیا جاسکتا ہے۔
اسی طرح ذرائع کے مطابق جہاں طبی طور پر ضرورت محسوس کی جائے وہاں عمران خان کے طبی معائنے، علاج یا اسپتال میں داخلے سے متعلق امور بھی زیر غور آسکتے ہیں۔
حکومتی ذرائع کے مطابق بشریٰ بی بی کے حوالے سے بھی اسی نوعیت کی سہولت فراہم کرنے پر غور کیا جاسکتا ہے، جس میں اہل خانہ اور قانونی ٹیم کے ساتھ ملاقاتوں سے متعلق امور شامل ہیں۔
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے امکانات گزشتہ چند روز سے وفاقی اور صوبائی سیاست میں زیر بحث ہیں۔ 30 ستمبر کو وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا تھا کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے اور اس کی وجہ صوبے میں سکیورٹی صورتحال کو قرار دیا۔
اسی طرح وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے بھی کہا تھا کہ گورنر راج یا ایمرجنسی آئینی آپشنز میں شامل ہیں، جبکہ پی ٹی آئی رہنماؤں نے اس مؤقف کی مخالفت کرتے ہوئے احتجاج کو سیاسی اور آئینی حق قرار دیا ہے۔
اس سے قبل خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی بھی گورنر راج کے امکان اور اس حوالے سے ہونے والی مشاورت کا ذکر کرچکے ہیں، جبکہ وفاقی وزیر امیر مقام نے بھی کہا تھا کہ گورنر راج کے لیے قانونی تقاضے پورے ہیں۔
یوں موجودہ صورتحال میں ایک طرف وفاقی سطح پر ایمرجنسی اور گورنر راج کے آئینی آپشنز زیر بحث ہیں جبکہ دوسری جانب سیاسی رابطوں اور مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی گنجائش بھی موجود ہے 4 اکتوبر کے مجوزہ مارچ سے قبل پی ٹی آئی کے آئندہ فیصلے اور وفاقی حکومت کے ردعمل کو اس معاملے میں اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔