چین کے شہر ژیان میں موجود ٹیراکوٹا آرمی دنیا کے حیرت انگیز ترین آثار قدیمہ میں شمار ہوتی ہے۔ مٹی سے بنائے گئے ہزاروں سپاہیوں کا یہ لشکر چین کے پہلے شہنشاہ چن شی ہوانگ کے مقبرے کی حفاظت کے لیے تقریباً 210 سے 209 قبل مسیح کے دوران تیار کیا گیا تھا۔
قدیم چینی عقیدے کے مطابق شہنشاہ کا خیال تھا کہ یہ فوج موت کے بعد بھی اس کی سلطنت اور اقتدار کی حفاظت کرے گی۔ یہ تاریخی خزانہ 1974 میں اس وقت اتفاقاً دریافت ہوا جب مقامی کسان ایک کنواں کھود رہے تھے۔ بعد ازاں ماہرین آثار قدیمہ نے یہاں زیر زمین ایک وسیع فوج دریافت کی۔
ٹیراکوٹا آرمی میں 8 ہزار سے زائد سپاہیوں کے علاوہ سینکڑوں گھوڑے اور رتھ بھی موجود ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ بہت سے مجسموں کے چہرے، قد، بالوں کے انداز، لباس اور تاثرات ایک دوسرے سے مختلف ہیں، جس سے اس دور کے کاریگروں کی غیر معمولی مہارت کا اندازہ ہوتا ہے۔
یہ فوج 3 بڑے زیر زمین گڑھوں میں موجود ہے، جہاں قدیم چینی فن اور دستکاری کی شاندار مثالیں دیکھی جاسکتی ہیں۔ دریافت کے وقت ماہرین کو سپاہیوں کے ساتھ موجود کانسی کے ہتھیاروں نے بھی حیران کردیا۔ تلواروں، نیزوں اور دیگر ہتھیاروں پر زنگ کے آثار انتہائی کم تھے۔ ان کے تحفظ میں کرومیم سے متعلق ایک قدیم تکنیک کے ممکنہ کردار پر تحقیق کی گئی ہے، تاہم اس ٹیکنالوجی کے بارے میں سائنسی بحث اب بھی جاری ہے۔
ان مجسموں کی ایک اور دلچسپ خصوصیت ان کے اصل رنگ ہیں۔ ماہرین کے مطابق سپاہیوں کے مجسمے کبھی شوخ اور نمایاں رنگوں سے سجائے گئے تھے، لیکن صدیوں تک زمین میں دفن رہنے کے بعد جب وہ اچانک ہوا کے رابطے میں آئے تو ان میں سے کئی رنگ تیزی سے خراب ہوگئے۔
اسی وجہ سے ماہرین جدید سائنسی طریقوں کے ذریعے باقی ماندہ رنگوں کو محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شہنشاہ چن شی ہوانگ کا اصل مقبرہ اب بھی مکمل طور پر نہیں کھولا گیا۔ قدیم چینی تحریروں میں مقبرے کے اطراف پارے کے دریاؤں کا ذکر ملتا ہے، جبکہ آثار قدیمہ کی تحقیق میں مقبرے کے قریب مٹی میں پارے کی غیر معمولی مقدار بھی دریافت ہوئی ہے۔
اسی لیے ٹیراکوٹا آرمی صرف مٹی کے مجسموں کا ایک مجموعہ نہیں بلکہ قدیم چین کی تاریخ، فن، ٹیکنالوجی اور شاہی طاقت کی ایک ایسی جھلک ہے جو دو ہزار سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود آج بھی دنیا کو حیران کرتی ہے۔یونیسکو نے 1987 میں ٹیراکوٹا آرمی اور شہنشاہ چن شی ہوانگ کے مقبرے کو عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کیا تھا۔