ایران جنگ : امریکی صدر ٹرمپ کا ڈیزل کی برآمدات پر پابندی کا عندیہ

ایران جنگ : امریکی صدر ٹرمپ کا ڈیزل کی برآمدات پر پابندی کا عندیہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران جنگ کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کرنے پر روزانہ کی بنیاد پر غور کیا جا رہا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق امریکا میں پیٹرول کی قیمت گزشتہ سال کے مقابلے میں 40 فیصد سے زائد بڑھ چکی ہے جبکہ ڈیزل کی قیمت 1 ہفتہ قبل ریکارڈ 6.53 ڈالرز فی گیلن تک پہنچ گئی تھی۔

قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ ایران کے خلاف امریکی اسرائیلی جنگ کے باعث رسد میں کمی اور تیل صاف کرنے کے عمل میں رکاوٹیں بتائی جا رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کے ساتھ جنگ طویل ، امریکی سینیٹر چک شومر نے ٹرمپ کو آئینہ دکھا دیا

نومبر میں وسط مدتی انتخابات سے قبل ٹرمپ انتظامیہ اور ریپبلکن امیدواروں پر ایندھن کی قیمتیں کم کرنے کے لیے دباؤ بڑھ گیا ہے جبکہ ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں سے متعلق عوامی منظوری بھی دباؤ کا شکار ہے۔

امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ کا کہنا ہے کہ رکاوٹیں مزید وسیع ہو رہی ہیں، مشرقِ وسطیٰ سے ڈیزل کی کچھ برآمدات متاثر ہوئی ہیں جن کی بحالی کی کوشش جاری ہے، چین سے ڈیزل کی برآمدات بھی متاثر ہوئی ہیں۔

عالمی منڈی پر ممکنہ اثر

امریکا ڈیزل کے بڑے برآمد کنندگان میں شامل ہے، اس لیے اگر برآمدات پر پابندی لگتی ہے تو عالمی منڈی میں ڈیزل کی رسد مزید کم ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اس کا اثر ان ملکوں پر پڑ سکتا ہے جو ایندھن درآمد کرتے ہیں، جن میں پاکستان جیسے ممالک بھی شامل ہیں۔ تاہم ابھی صرف غور ہو رہا ہے اور حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

یہ بھی پڑھیں:ایران نے شرائط امریکا کو دیدیں مگر ڈونلڈ ٹرمپ فیصلہ کرنے کے قابل نہیں ، محسن رضائی

نومبر کے وسط مدتی انتخابات قریب ہیں، اس لیے ایندھن کی بڑھتی قیمتیں ٹرمپ انتظامیہ اور ریپبلکن امیدواروں کے لیے سیاسی مسئلہ بنتی جا رہی ہیں،  ایسے میں قیمتیں کم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام پر غور کیا جا رہا ہے۔

editor

Related Articles