تحریک انصاف کے اعلان کردہ لانگ مارچ کے حوالے سے قیادت کی خاموشی کے باعث پارٹی کارکنوں میں بے چینی اور کنفیوژن بڑھنے لگی ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر بعض کارکنوں اور رہنماؤں کی جانب سے قیادت سے وضاحت طلب کی جارہی ہے۔
تحریک انصاف کے رہنما خالد خان سپاری نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں مذاکرات پر سوال اٹھاتے ہوئے لکھا کہ ’’مذاکرات ٹرک کی بتی ہے کیونکہ مطالبات میں عمران خان کی رہائی شامل ہی نہیں ہے، پھر مذاکرات کس لیے ہورہے ہیں؟‘‘
خالد خان سپاری نے مزید لکھا کہ وزیراعلیٰ نے 2 اکتوبر کو لائحہ عمل دینے کا اعلان کیا تھا، لیکن آج 2 اکتوبر ہے اور کسی کارکن کو معلوم نہیں کہ ہم نے کرنا کیا ہے۔
دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت لانگ مارچ منسوخ کرنے کا فیصلہ کرچکی ہے، تاہم فیس سیونگ کے لیے مذاکرات کے ذریعے کارکنوں اور عوام میں اپنی ساکھ برقرار رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
لانگ مارچ کے حوالے سے قیادت کی جانب سے واضح لائحہ عمل سامنے نہ آنے پر کارکنوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں، جبکہ بعض کارکن سہیل آفریدی سے لانگ مارچ کے بارے میں وضاحت طلب کررہے ہیں۔