ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) سے رجسٹریشن کے باوجود وفاقی حکومت کی جانب سے قیمتوں کی حتمی منظوری نہ ملنے کے باعث ملک بھر میں 40 نئی اور انتہائی اہم جان بچانے والی ادویات کی قانونی فروخت معطل ہے، جس نے مریضوں کو بلیک مارکیٹ کا محتاج کر دیا ہے۔
پاکستان میں کینسر، ذیابیطس، ہیموفیلیا اور پارکنسنز جیسی مہلک بیماریوں میں مبتلا ہزاروں مریض اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق ڈریپ نے ان تمام 40 نئی ادویات کی رجسٹریشن کا عمل مکمل کر لیا تھا، لیکن قانون کے مطابق جب تک وفاقی حکومت ان کی زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت (ایم آر پی) کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کرتی، دوا ساز کمپنیاں انہیں مارکیٹ میں فروخت نہیں کر سکتیں۔
اس تاخیر کی وجہ سے جو اہم ترین ادویات اسپتالوں اور میڈیکل اسٹورز سے غائب ہیں، ان میں کیٹروڈا (پیمبرولیزوماب) اور نیولوماب جیسی جدید ترین ادویات شامل ہیں۔
اس کے علاوہ ہیوماڈور انسولین اور دورانِ حمل ہائی بلڈ پریشر کے لیے استعمال ہونے والی میتھائل ڈوپا۔ پارکنسنز کے لیے کاربی ڈوپا لیوڈوپا، خون جمنے سے روکنے والی ہیپرین، شدید انفیکشن کے لیے میروپینم اینٹی بائیوٹک اور اینستھیزیا کے لیے کیٹامائن شامل ہیں۔
پاکستان کیمسٹ اینڈ ڈرگسٹ ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالصمد بڈانی اور پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس تاخیر نے مریضوں کو غیر قانونی ذرائع سے اسمگل شدہ ادویات خریدنے پر مجبور کر دیا ہے۔
یہ ادویات نہ صرف انتہائی مہنگی ہیں بلکہ ان کے جعلی ہونے یا غیر معیاری درجہ حرارت پر رکھنے کی وجہ سے خراب ہونے کا خطرہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔
وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے اس سنگین صورتحال کا اعتراف کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ معاملہ پہلے سے موجود ادویات کی قیمتیں بڑھانے کا نہیں، بلکہ صرف نئی رجسٹرڈ ادویات کی قیمت پہلی بار مقرر کرنے کا ہے۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وزارتِ صحت اور ڈریپ اس معاملے کو کابینہ کمیٹی اور وفاقی کابینہ سے جلد از جلد منظور کرانے کے لیے کوشاں ہیں۔
پاکستان میں ادویات کی قیمتوں کا تعین ہمیشہ سے ایک پیچیدہ اور سست رفتار عمل رہا ہے۔ ڈریپ کی پرائسنگ کمیٹی نے دسمبر 2024 سے جون 2025 کے درمیان ان تمام ادویات کی قیمتوں کی سفارشات کو حتمی شکل دے کر ڈریپ پالیسی بورڈ کے ذریعے وفاقی حکومت کو بھیج دی تھی۔
حکومت نے اس سے قبل 35 نئی ادویات کے پہلے بیچ کی قیمتیں تو منظور کر لیں، لیکن یہ باقی ماندہ 40 ادویات گزشتہ کئی ماہ سے کابینہ کمیٹی اور وفاقی کابینہ کی میز پر منظوری کی منتظر پڑی ہیں۔
اس سست روی کی وجہ سے جہاں بین الاقوامی دوا ساز کمپنیاں پاکستان میں نئی ریسرچ پر مبنی ادویات لانے سے کتراتی ہیں، وہاں مریضوں کی زندگیوں کو بھی داؤ پر لگا دیا گیا ہے۔
یہ صورتحال پاکستان کے ہیلتھ کیئر سسٹم اور فارماسیوٹیکل سیکٹر کی ایک بڑی کمزوری کو عیاں کرتی ہے۔ ڈریپ کی منظوری کے بعد بھی مہینوں تک وفاقی کابینہ کی منظوری کا انتظار کرنا ظاہر کرتا ہے کہ ہیلتھ ریگولیشنز میں بیوروکریسی کی رکاوٹیں کس حد تک حاوی ہیں۔
بلیک منی اور اسمگلنگ کو فروغ
جب مریض کو قانونی دکان سے دوا نہیں ملے گی، تو وہ مجبورا ً اسمگل شدہ مال خریدے گا۔ اس سے نہ صرف اسمگلرز کا نیٹ ورک مضبوط ہوتا ہے بلکہ ملک سے باہر حوالہ ہنڈی کے ذریعے غیر قانونی طور پر ڈالر بھی منتقل ہوتے ہیں جس سے ملکی خزانے کو نقصان پہنچتا ہے۔
صحت کا تحفظ خطرے میں
اسمگل شدہ ادویات کسٹمز کی چیکنگ اور ڈریپ کی کوالٹی لیسبارٹریز سے گزرے بغیر آتی ہیں۔ انسولین اور کینسر کی ویکسینز کو ایک خاص کولڈ چین (درجہ حرارت) کی ضرورت ہوتی ہے، اسمگلنگ کے دوران اس کا خیال نہ رکھنے سے یہ ادویات زہر بن سکتی ہیں یا بے اثر ہو جاتی ہیں۔
حکومت کو چاہیے کہ نئی ادویات کی قیمتوں کے تعین کے لیے وفاقی کابینہ کی ہر بار منظوری کی شرط کو ختم کر کے یہ اختیارات مستقل طور پر ڈریپ یا وزارتِ صحت کی ایک خود مختار کمیٹی کو دے دے تاکہ مریضوں کو بروقت علاج مل سکے۔