چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بڑی مشکل اور طویل عرصے بعد فریقین ایک فیصلے پر پہنچے ہیں، اس لیے دونوں جانب سے اس عمل کو سبوتاژ نہیں کیا جانا چاہیے۔
پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی ہے، تاہم ابھی تک اس اپیل کو نمبر الاٹ نہیں ہوا۔
فیصلے پر عملدرآمد کی امید
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوگا، ہم نے کل بھی کہا تھا کہ عدالتی فیصلے پر من و عن عمل کیا جائے،ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے اپنے سوشل میڈیا ایکٹوسٹس سے بھی درخواست کی ہے کہ ایسا کوئی مواد شیئر نہ کیا جائے جس سے معاملے پر منفی اثرات مرتب ہوں۔
صحت پر سیاست نہیں
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سب سے اہم ترجیح ہے اور اس معاملے پر کسی قسم کی سیاست نہیں ہونی چاہیے،انہوں نے مقتدرہ اور حکومت سے درخواست کی کہ عدالتی فیصلے پر عملدرآمد ہونے دیا جائے،بانی پی ٹی آئی کے مزاج سے سب واقف ہیں اور وہ صرف علاج کی ضرورت کے مطابق ہسپتال میں قیام کریں گے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اس فیصلے تک پہنچنے کے لیے بہت کوششیں کی گئی ہیں، اس لیے تمام فریقین کو بڑا دل دکھانا چاہیے، حکومت کو اس معاملے پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ پی ٹی آئی نے ہر طرح کی یقین دہانی کرائی ہے۔
انہوں نے ان افراد کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے گزشتہ روز ملاقات کرانے میں کردار ادا کیا،ان کا کہنا تھا کہ نورین نیازی کی ملاقات بھی وعدے کے مطابق کرائی گئی، جو ان کا حق ہے۔
کوئی ڈیل نہیں ہوئی
بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی سے متعلق جو کچھ ہو رہا ہے، وہ کسی ڈیل کا نتیجہ نہیں بلکہ صحت کا معاملہ ہے،انہوں نے کہا کہ فریقین کو اس حساس معاملے میں تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ عدالتی فیصلے پر عملدرآمد اور بانی پی ٹی آئی کے علاج کا عمل بلا رکاوٹ جاری رہ سکے۔