جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے محفوظ پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کے انسانی حق سے متعلق قرارداد منظور کرلی۔
قرارداد اسپین اور جرمنی کی جانب سے پیش کی گئی۔ انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں اسے بغیر ووٹنگ کے منظور کیا گیا۔
پاکستان نے قرارداد کے حتمی متن میں سرحد پار آبی تعاون کا واضح حوالہ شامل کرانے کے لیے فعال کردار ادا کیا۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق مشترکہ آبی وسائل پر تعاون انسانی حقوق کے تحفظ سے براہ راست جڑا ہے۔
پاکستان کا مؤقف
پاکستان نے سرحد پار پانیوں کے معاملے کو انسانی حقوق کے تناظر میں اجاگر کیا۔ پاکستانی نمائندے عدیل ممتاز کھوکھر نے قرارداد کی منظوری کے موقع پر ملک کا مؤقف پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ جہاں پانی مشترکہ ہو وہاں ذمہ داریاں بھی مشترکہ ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق ہمسایہ ممالک کے درمیان مشترکہ پانیوں پر تعاون کسی رعایت یا احسان کا معاملہ نہیں۔
پاکستانی نمائندے نے اسے مشترکہ ذمہ داری قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ آبی وسائل سے متعلق تعاون کو باہمی ذمہ داری اور بین الاقوامی اصولوں کے تحت آگے بڑھانا چاہیے۔
اقوام متحدہ کے اجلاس میں پاکستان پہلے بھی پانی تک رسائی کو انسانی حقوق سے جوڑنے کی ضرورت پر زور دے چکا ہے۔ مارچ میں پاکستانی مؤقف میں سرحد پار پانیوں کے لیے بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر بھی زور دیا گیا تھا۔
بھارت کی کوشش
فراہم کردہ معلومات کے مطابق بھارت نے قرارداد کے متن سے سرحد پار آبی تعاون کا حوالہ نکالنے کی کوشش کی۔
اقوام متحدہ کی ویب کاسٹ کے مطابق قرارداد میں ترمیم کی دو تجاویز مسترد ہوئیں۔ اس کے بعد بنیادی قرارداد بغیر ووٹ کے منظور کرلی گئی۔
پاکستان نے مشترکہ پانیوں کے حوالے سے اپنا اصولی مؤقف برقرار رکھا۔ پاکستانی نمائندے نے پانی کو سیاسی دباؤ یا اثر و رسوخ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کی مخالفت کی۔