لاہور پولیس نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی ) کی کارکن فلک جاوید کو جناح ہاؤس حملہ کیس میں باقاعدہ گرفتار کر کے انسدادِ دہشتگردی عدالت سے ان کا 5 روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا ہے۔
ملزمہ اس سے قبل صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری کی فیک ویڈیو پھیلانے کے الزام میں بھی زیرِ حراست تھیں۔ یہ گرفتاری ایک ایسے وقت میں عمل میں لائی گئی ہے جب کچھ ہی دیر قبل عدالت نے ایک اور مقدمے میں ان کی ضمانت منظور کی تھی۔
عدالت میں پیشی اور ریمانڈ کی منظوری
میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور پولیس نے پنجاب کی وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری کی فیک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے مقدمے میں پہلے سے زیرِ حراست پی ٹی آئی کارکن فلک جاوید کے خلاف قانونی گھیرا مزید تنگ کر دیا ہے۔
پولیس نے جناح ہاؤس (کور کمانڈر ہاؤس لاہور) پر حملے کے انتہائی حساس مقدمے میں ان کی گرفتاری کی کاغذی کارروائی مکمل کرنے کے بعد، انہیں آج لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت میں پیش کیا۔
عدالت کے معزز جج ملک عابد حسین نے اس مقدمے کی سماعت کی، جس کے دوران پولیس نے تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد پولیس کی درخواست منظور کرتے ہوئے ملزمہ کو 5 روز کے لیے تفتیشی حکام کے حوالے کر دیا۔
ایک مقدمے میں ضمانت، دوسرے میں گرفتاری
دلچسپ اور قابلِ غور امر یہ ہے کہ آج ہی کے دن اسی عدالت سے فلک جاوید کو ایک دوسرے مقدمے میں ریلیف بھی ملا تھا۔ انسدادِ دہشتگردی عدالت کے جج ملک عابد حسین نے زمان پارک کے باہر پولیس پر حملے کے مقدمے میں ملزمہ کی ضمانت منظور کر لی تھی۔
تھانہ ریس کورس میں درج اس مقدمے میں پراسیکیوشن کی جانب سے ضمانت کی بھرپور مخالفت کی گئی تھی، تاہم عدالت نے شواہد کی روشنی میں فلک جاوید کے حق میں فیصلہ دیا۔ اس ضمانت کے باوجود، جناح ہاؤس کیس میں نئی گرفتاری کے باعث ان کی رہائی ممکن نہ ہو سکی۔
9 مئی کے واقعات اور قانونی شکنجہ
فلک جاوید کا شمار پاکستان تحریکِ انصاف کی انتہائی متحرک اور سوشل میڈیا پر سرگرم خواتین کارکنوں میں ہوتا ہے۔ 9 مئی کو چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں اور خاص طور پر جناح ہاؤس لاہور پر ہونے والے حملے کے بعد سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان کی تلاش تھی۔
ان پر پولیس پر حملے، جلاؤ گھیراؤ اور حال ہی میں سیاسی مخالفین کی کردار کشی کے لیے فیک ویڈیوز پھیلانے جیسے سنگین الزامات کے تحت متعدد مقدمات درج ہیں۔ وہ گزشتہ کئی ماہ سے 9 مئی کے انہی مقدمات کے سلسلے میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے قید ہیں۔
قانونی ریلیف اور مقدمات کی نہ ختم ہونے والی زنجیر
اس پوری صورتحال کا بغور قانونی اور سیاسی جائزہ لیا جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ 9 مئی کے واقعات میں نامزد سیاسی کارکنان اس وقت ایک انتہائی پیچیدہ قانونی بھنور میں پھنسے ہوئے ہیں۔
جب تک ریاستی اداروں اور متعلقہ سیاسی جماعت کے درمیان کسی سطح پر سیاسی درجہ حرارت کم نہیں ہوتا، کارکنوں کی یہ طویل قانونی رسہ کشی اور مشکلات یونہی جاری رہنے کا قوی امکان ہے۔