خیبر پختونخوا میں خطرناک بیماری پھیل گئی، 200 کیسز رپورٹ، ہیلتھ ایمرجنسی نافذ

خیبر پختونخوا میں خطرناک بیماری پھیل گئی، 200 کیسز رپورٹ، ہیلتھ ایمرجنسی نافذ

خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ کے علاقے زیارت کاکا صاحب میں چکن گونیا کے 200 سے زیادہ مشتبہ کیسز سامنے آنے کے بعد ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت نے مرض کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر سپرے مہم، ادویات کی فراہمی اور عوامی شعور بیدار کرنے کی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔

نوشہرہ کے علاقے زیارت کاکا صاحب میں مچھروں سے پھیلنے والی وائرل بیماری ’چکن گونیا‘ نے وبائی صورت اختیار کر لی ہے، جس کے بعد محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ نے ہنگامی اقدامات اٹھاتے ہوئے علاقے میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔

گزشتہ چند روز کے دوران اس علاقے سے 200 سے زیادہ مشتبہ مریضوں کو اسپتال لایا گیا ہے، جس کے باعث مقامی صحت کے مراکز پر دباؤ میں شدید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر نئے مریض لائے جا رہے ہیں۔

محکمہ صحت کے فوری اقدامات اور ٹیسٹنگ

ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) نوشہرہ ڈاکٹر اکرم شاہ کے مطابق، ابتدائی طور پر 6 کیسز میں چکن گونیا کی تصدیق ہوئی تھی، جس کے بعد ماہرین کی ٹیموں نے بڑی تعداد میں دیگر مشتبہ مریضوں کے نمونے حاصل کر کے لیبارٹری تشخیص کے لیے بھجوا دیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:نئی ہونڈا سٹی 7 ویں جنریشن کار کی پاکستان میں لانچنگ سے متعلق کمپنی کی وضاحت سامنے آگئی

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے شیئر کی گئی سرکاری رپورٹس کے مطابق، اب تک اسپن کنڈرے کے علاقے میں 122 کیسز کی باقاعدہ تصدیق ہو چکی ہے۔

ڈی ایچ او کی سربراہی میں محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ پر مشتمل مختلف ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو متاثرہ علاقوں میں حفاظتی سپرے کر رہی ہیں۔

اس کے علاوہ شہریوں کو احتیاطی تدابیر سے آگاہ کرنے کے لیے مساجد میں اعلانات اور آگاہی سیشنز کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

ہلاکتوں کی افواہیں اور ڈپٹی کمشنر کی تردید

علاقے میں بیماری سے اموات کی گردش کرتی افواہوں پر ردعمل دیتے ہوئے، ڈپٹی کمشنر نوشہرہ گوہر زمان وزیر نے واضح کیا ہے کہ ولیج کونسل زیارت کاکا صاحب کے متاثرہ علاقے اسپن کنڈرے میں چکن گونیا سے تاحال کوئی موت واقع نہیں ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل رپورٹ ہونے والی 3 اموات کینسر اور دیگر جان لیوا امراض کے باعث ہوئی تھیں، جن کا اس وائرل بیماری سے کوئی تعلق نہیں۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ خوف و ہراس کا شکار نہ ہوں اور افواہیں پھیلانے سے گریز کریں، کیونکہ یہ مرض بروقت علاج سے مکمل طور پر قابلِ شفا ہے۔

وزیرِ صحت کا نوٹس اور اسپتالوں کا دورہ

علاقے میں مرض کے تیزی سے پھیلاؤ کی اطلاعات پر صوبائی وزیرِ صحت خالق الرحمان نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ڈی ایچ او اور دیگر متعلقہ حکام کو ہنگامی اور مؤثر اقدامات کی سخت ہدایات جاری کی ہیں۔

ان کی ہدایت پر اعلیٰ حکام نے متاثرہ علاقے میں واقع کیٹیگری ڈی اسپتال کا دورہ کیا اور وہاں ضروری ادویات، ویکسینز، ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر طبی عملے کی دستیابی کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ اسپتال میں مریضوں کے رش کے پیشِ نظر اضافی عملہ بھی تعینات کر دیا گیا ہے۔

گھر گھر سپرے مہم اور حفاظتی تدابیر

محکمہ صحت کی ٹیموں نے نوشہرہ تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن (ٹی ایم اے) کے سپرے سٹاف کے ہمراہ اسپن کنڈرے اور ملحقہ علاقوں میں گھر گھر انڈور ریزیڈول سپرے (آئی آر ایس) کا آغاز کر دیا ہے۔

ہیلتھ ورکرز ان برتنوں اور جگہوں کا بھی معائنہ کر رہے ہیں جہاں کھڑا پانی مچھروں کی افزائش کا سبب بن سکتا ہے۔ میڈیکل ٹیمیں رہائشیوں کو ادویات فراہم کر رہی ہیں، جبکہ متاثرہ علاقوں میں مچھر دانیاں بھی تقسیم کی جا رہی ہیں۔ شہریوں کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ صفائی کا خاص خیال رکھیں اور اپنے اردگرد پانی کھڑا نہ ہونے دیں۔

چکن گونیا ایک وائرل بیماری ہے جو مخصوص مچھروں (ایڈیز ایجپٹی اور ایڈیز البوپکٹس) کے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے۔ اس کی علامات میں اچانک تیز بخار، جوڑوں کا شدید درد، پٹھوں میں کھچاؤ، سر درد اور جسم پر سرخ دھبے پڑنا شامل ہیں۔

مزید پڑھیں:200 سال پرانا 440 ایکٹر پر پھیلا قیمتی محل بک گیا،خریدار کا نام جان کر حیران رہ جائیں گے

اگرچہ یہ بیماری عموماً جان لیوا نہیں ہوتی، لیکن اس کے باعث ہونے والا جوڑوں کا درد انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے اور بعض اوقات مہینوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔

پاکستان کے مختلف علاقوں میں مون سون کی بارشوں کے بعد نکاسی آب کے ناقص نظام اور جگہ جگہ پانی کھڑا ہونے کے باعث ڈینگی اور چکن گونیا جیسی مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کے کیسز میں عموماً اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔

نوشہرہ کے علاقے زیارت کاکا صاحب میں چکن گونیا کا اچانک پھیلاؤ ہمارے میونسپل اور پبلک ہیلتھ کے نظام کی ایک دیرینہ خامی کو اجاگر کرتا ہے۔

اگرچہ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کی جانب سے 200 کیسز سامنے آنے کے بعد ہیلتھ ایمرجنسی کا نفاذ، گھر گھر سپرے مہم اور ادویات کی فراہمی قابلِ ستائش اقدام ہے، تاہم یہ ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ ہمارا نظام ’ردعمل‘ (ری ایکٹو) پر مبنی ہے، ’پیشگی انسداد‘ (پرو ایکٹو) پر نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں ’ای سم‘ کن موبائل فونز میں چلے گی، تفصیل سامنے آگئی

مچھروں سے پھیلنے والی بیماریاں موسمی ہوتی ہیں اور ان کا اندازہ پہلے سے لگایا جا سکتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بلدیاتی اداروں نے بارشوں کے بعد بروقت سپرے اور کھڑے پانی کے انخلاء کا انتظام کیوں نہیں کیا؟

محض اس وقت حرکت میں آنا جب درجنوں افراد اسپتال پہنچ جائیں، کسی صورت بھی مؤثر گڈ گورننس نہیں کہلا سکتا۔ اس وبا پر مکمل قابو پانے کے لیے ہنگامی طبی امداد کے ساتھ ساتھ بلدیاتی نظام کی مستقل بنیادوں پر بہتری ناگزیر ہے تاکہ مستقبل میں ایسی صورتحال سے بچا جا سکے۔

عوام کو بھی چاہیے کہ وہ انتظامیہ پر تنقید کے ساتھ ساتھ اپنی شہری ذمہ داریاں پوری کریں اور اپنے گھروں اور گلیوں کو مچھروں کی افزائش گاہ بننے سے روکیں۔

Related Articles