پاکستانی اداکارہ مومنہ اقبال نے لیگی رہنما صوبائی اسمبلی ثاقب چدھڑ سے متعلق جاری تنازع پر ایک بار پھر کھل کر گفتگو کی ہے۔
مومنہ اقبال نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں شرکت کی جس میں انہوں نے ثاقب چدھڑ کی جانب سے صلح کی پیشکش کیے جانے اور مالی معاملات سے متعلق دعوؤں پر اپنا مؤقف بیان کیا۔
اداکارہ نے کہا کہ انہوں نے صلح کے لیے بہت کوشش کی، ہمیں دباؤ میں لایا گیا اور بلیک میل کیا گیا کہ معاملہ ختم کردیں ، حکومت میں موجود بعض بااثر شخصیات نے مجھے فون کر کے رقم کی پیشکش بھی کی، تاہم ثاقب چدھڑ کی جانب سے مجھے یا میرے شوہر کو کسی قسم کی رقم نہیں دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ثاقب چدھڑ کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ میں نے خاموشی اختیار کرنے کے لیے رقم لی، تاہم ایسا کچھ نہیں ہوا، صلح کے لیے میری واحد شرط یہ تھی کہ ثاقب چدھڑ عوام کے سامنے سچ بیان کریں۔
مومنہ اقبال کا کہنا تھا کہ ابتدا میں ثاقب چدھڑ نے معذرت پر مبنی ویڈیو جاری کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی اور مجھ سے عدالت میں بیان نہ دینے کی درخواست کی تھی، تاہم بعد میں انہوں نے مبینہ طور پر یہ مؤقف اختیار کیا کہ معاملہ عوام کے سامنے آنے سے دونوں کی بدنامی ہوگی۔
مومنہ اقبال کے مطابق ہمارے درمیان کسی رقم کے عوض صلح کا کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔
اداکارہ نے یہ بھی بتایا کہ دونوں جانب کے وکلا نے معاملہ ختم کرنے کے حوالے سے بات چیت کی، جبکہ میری بہن کو بھی پیغام بھیجا گیا کہ ماضی کے تعلق کو مدنظر رکھتے ہوئے معاملہ ختم کردیا جائے، لیکن میری بہن نے اس پیغام کا کوئی جواب نہیں دیا۔
مومنہ اقبال نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہوں نے ثاقب چدھڑ کے خلاف ہراسانی، بلیک میلنگ، سائبر بُلنگ اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کے حوالے سے مقدمہ درج کرایا، تاہم عدالت میں ان الزامات پر بات کرنے کے بجائے سابقہ تعلق اور دیگر معاملات کو زیر بحث لایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ریجیکشن کا مطلب ریجیکشن ہوتا ہے، چاہے لڑکی نکاح سے ایک دن پہلے ہی رشتہ ختم کیوں نہ کردے ، میں گزشتہ 4 برس سے اس تمام صورتحال کے باعث ذہنی اذیت اور صدمے سے گزر رہی ہوں۔
اداکارہ نے ثاقب چدھڑ کی سیاسی مہم کے حوالے سے بات کرتے کہا کہ ان کی سیاسی مہم شروع ہونے کے وقت میں نے ان کی مدد کی، ان کے فوٹو شوٹس کروائے اور ان کی گرومنگ میں بھی کردار ادا کیا۔
انہوں نے ثاقب چدھڑ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتخابات کے دوران ہی تھا جب ان کا کڈنی اسکینڈل بے نقاب ہوا، اس کے بعد میرے والد نے ہمارا رشتہ ختم کر دیا جس کے بعد ہم دونوں کے درمیان الزام تراشی کا سلسلہ شروع ہو گیا ، پھر اس نے مجھے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ تمہیں قتل کیے جانے کی اجازت ہے۔