خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی زبردست کارروائیاں، ’فتنہ الخوارج‘ کے 21 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر

خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی زبردست کارروائیاں، ’فتنہ الخوارج‘ کے 21 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر

خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں 3 سے 5 ستمبر 2026 کے دوران سیکیورٹی فورسز کی شاندار کارروائیوں میں بھارتی حمایت یافتہ 21 خوارج ہلاک ہو گئے۔

پاک فوج نے واضح کیا ہے کہ افغان عبوری حکومت اپنی سرزمین کو دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے۔ ملک بھر میں ’عزمِ استحکام‘ کے وژن کے تحت دہشتگردوں کے مکمل خاتمے تک آپریشنز پوری قوت سے جاری رہیں گے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں دہشتگردوں کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بلوچستان: سیکیورٹی فورسز کی کاروائیاں،72 گھنٹوں میں فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے 48 دہشتگرد ہلاک

 3 سے 5 ستمبر 2026 کے درمیانی عرصے میں ہونے والے ان انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں سیکیورٹی فورسز اور بھارتی سرپرستی میں چلنے والے ’فتنہ الخوارج‘ کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جن کے نتیجے میں 21 خوارج مارے گئے۔

پاک افغان سرحد اور ملحقہ اضلاع میں کامیاب کارروائیاں

عسکری ترجمان کے مطابق 31 اگست اور یکم ستمبر کی درمیانی شب شمالی وزیرستان میں پاک افغان سرحد سے متصل علاقوں میں سیکیورٹی فورسز نے ایک انتہائی کامیاب کارروائی کی۔

اس آپریشن کے بعد علاقے میں چھپے مزید 10 خوارج کو بھی ہلاک کیا گیا، جس کے بعد اس مخصوص کارروائی میں مارے جانے والے دہشتگردوں کی مجموعی تعداد 25 تک پہنچ گئی۔

اسی طرح شمالی وزیرستان ہی میں ایک اور مقام پر دراندازی کی کوشش کرنے والے خوارج کے ایک گروپ کی نقل و حرکت کا بروقت سراغ لگایا گیا۔

فورسز نے انتہائی مؤثر اور ماہرانہ حکمت عملی اپناتے ہوئے اس گروپ کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں مزید 7 خوارج ہلاک ہوگئے۔

مزید پڑھیں:پشین،کچ مور میں ایف سی پارٹی اور اے سی ہرنائی کے اسکواڈ پر فتنہ الخوارج کا حملہ ،8اہلکار شہید، 11 خوارج ہلاک

علاوہ ازیں، کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان کے اضلاع میں سیکیورٹی اداروں کی مشترکہ کارروائیوں میں بھی دو مختلف مقامات پر ہونے والی جھڑپوں کے دوران 4 خوارج کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

افغان حکومت کی ناکامی اور بارڈر مینجمنٹ پر سوالات

آئی ایس پی آر کے اعلامیے میں ہمسایہ ملک افغانستان کی عبوری حکومت پر کڑی تنقید کی گئی ہے۔ بیان میں دو ٹوک الفاظ میں کہا گیا ہے کہ پاک افغان سرحد پر بار بار پیش آنے والے دراندازی کے یہ واقعات افغان طالبان حکومت کی صریحاً ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

کابل انتظامیہ اپنی سرزمین کو دہشتگرد تنظیموں کے استعمال سے روکنے میں مکمل طور پر بے بس دکھائی دیتی ہے۔ بیان کے مطابق، افغان طالبان حکومت نہ صرف مؤثر بارڈر مینجمنٹ کو یقینی بنانے میں ناکام رہی ہے بلکہ انسداد دہشتگردی سے متعلق اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں نبھانے میں بھی اس کی مسلسل غفلت سامنے آ رہی ہے۔

کلیئرنس آپریشنز اور عزمِ استحکام کا تسلسل

ترجمان پاک فوج نے قوم کو یقین دلایا ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ملکی سرحدوں کے دفاع اور ملکی سلامتی کے عزم پر پوری طرح ثابت قدم اور غیر متزلزل ہیں۔

علاقے میں موجود بھارتی سرپرستی میں سرگرم مزید خوارج کے چن چن کر خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشنز مسلسل جاری ہیں۔ آئی ایس پی آر نے یہ بھی واضح کیا کہ سیکیورٹی فورسز اور دیگر تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے ملکی قیادت کے وضع کردہ ’عزمِ استحکام‘ کے وژن کے تحت متحد ہیں۔

ملک سے غیر ملکی سرپرستی اور مالی معاونت سے چلنے والی دہشت گردی کی جڑیں اکھاڑ پھینکنے کے لیے یہ مہم اپنی پوری رفتار اور طاقت کے ساتھ جاری رکھی جائے گی۔

پاکستان کو گزشتہ چند برسوں سے بالخصوص مغربی سرحدوں پر دہشتگردی کی ایک نئی لہر کا سامنا ہے۔ اگست 2021 میں افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد، پاکستان نے بجا طور پر یہ توقع ظاہر کی تھی کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:آپریشن ردالفتنہ 3 جاری، زیارت کراس چیک پوسٹ پر فتنہ الخوارج کا بزدلانہ حملہ ناکام، فورسز کی بھرپور کارروائی، دہشتگرد فرار

تاہم کالعدم ٹی ٹی پی (جسے اب ریاستی سطح پر ’فتنہ الخوارج‘ کا نام دیا گیا ہے) نے افغان سرزمین پر موجود اپنی محفوظ پناہ گاہوں سے پاکستان میں حملے تیز کر دیے۔

ان حملوں میں بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی مالی و عسکری معاونت کے شواہد بھی پاکستان متعدد بار عالمی برادری کے سامنے پیش کر چکا ہے۔ اسی عفریت سے نمٹنے کے لیے ریاستی سطح پر ’عزمِ استحکام‘ نامی جامع قومی مہم کا آغاز کیا گیا ہے، جس کا مقصد دہشتگردوں، ان کے سہولت کاروں اور ہمدردوں کا مستقل بنیادوں پر خاتمہ کرنا ہے۔

حالیہ چند روز میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے اتنی بڑی تعداد میں دہشتگردوں کی ہلاکت اس بات کا غماز ہے کہ پاکستان کی انٹیلی جنس اور آپریشنل صلاحیتیں کس قدر مربوط اور مؤثر ہو چکی ہیں۔

Related Articles