ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ اسرائیل کی اشتعال انگیز کارروائیوں سے شروع ہونے والی جنگ کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہے بلکہ پوری دنیا اس کے نتائج بھگت رہی ہے۔
اپنے بیان میں رجب طیب اردوان نے کہا کہ جاری کشیدگی کا سب سے زیادہ خمیازہ خطے کے عوام کو اٹھانا پڑ رہا ہے، ایرانی عوام، خلیجی ممالک اور دیگر علاقائی ریاستیں بھی اس صورتحال سے متاثر ہو رہی ہیں جبکہ جنگ کے معاشی، سیاسی اور سلامتی سے متعلق اثرات دنیا کے دوسرے حصوں تک بھی پہنچ رہے ہیں۔
ترک صدر نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے جھوٹے بیانات اور تخریبی اقدامات نے خطے میں امن کے لیے ہونے والی کوششوں کو نقصان پہنچایا ہے،انہوں نے کہا کہ اسلام آباد معاہدے کے نتیجے میں خطے میں ایک عرصے کے لیے نسبتاً سکون اور استحکام کی صورتحال پیدا ہوئی تھی، تاہم اشتعال انگیز اقدامات نے اس پیش رفت کو متاثر کیا۔
رجب طیب اردوان نے خبردار کیا کہ اگر امن کی ہر کوشش کو خطرہ سمجھنے والی انتہا پسند سوچ میں تبدیلی نہ لائی گئی تو خطے میں جاری بحران کا خاتمہ مشکل ہوگا،ان کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال اور کشیدگی کو بڑھانے کے بجائے ایسے راستے اختیار کرنے کی ضرورت ہے جو فریقین کو مذاکرات کی میز پر لا سکیں۔
ترک صدر نے خطے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے مذاکرات، باہمی تعاون اور سفارتی کوششوں کو ناگزیر قرار دیا، انہوں نے کہا کہ مسلسل محاذ آرائی کسی بھی فریق کے لیے پائیدار حل نہیں لا سکتی، اس لیے کشیدگی کم کرنے اور اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوششیں تیز کرنا ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں امن و استحکام صرف اسی صورت ممکن ہے جب اشتعال انگیزی اور انتہا پسندی کے بجائے مکالمے، تعاون اور سفارت کاری کو ترجیح دی جائے،انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں عالمی برادری کی ذمہ داری بھی بڑھ گئی ہے کہ وہ جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے اور امن کی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔