سابق رکن آزاد کشمیر اسمبلی اور وکیل اسرار عباسی ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ کشمیری عوام بالخصوص راولاکوٹ کے شہری کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی سرگرمیوں سے خود کو الگ رکھیں اور کسی بھی ایسی سرگرمی کا حصہ نہ بنیں جس سے علاقے میں بدامنی یا عوامی مشکلات میں اضافہ ہو۔
اپنے ایک بیان میں اسرار عباسی نے کہا کہ آزاد کشمیر میں جاری بعض احتجاجی اور مزاحمتی سرگرمیوں نے معمولات زندگی کو متاثر کیا ہے۔ راولاکوٹ اور ملحقہ علاقوں کے عوام کو اس صورتحال کے ممکنہ اثرات کو سنجیدگی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
اسرار عباسی نے الزام عائد کیا کہ احتجاجی سرگرمیوں کے نتیجے میں عام شہریوں کو صحت، تعلیم، روزگار اور روزمرہ ضروریات سے متعلق مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد بھی موجودہ کشیدہ صورتحال سے متاثر ہوئی ہے اور ان کے تعلیمی، سیاسی اور معاشی مستقبل پر اس کے منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں :راولا کوٹ فائرنگ سے متعلق پہلے کے اکاؤنٹ سے ٹویٹ پھر کالعدم ایکشن کمیٹی کے گروپس میں وہی بیانیہ،گٹھ جوڑ بے نقاب
سابق رکن اسمبلی نے عوامی ایکشن کمیٹی کے بعض رہنماؤں اور کارکنوں کے طرز عمل پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود کو عوامی حقوق کی جدوجہد سے وابستہ قرار دیتے ہیں تاہم ان کے خیال میں احتجاج کا موجودہ طریقہ عوامی مفاد کے بجائے مسائل میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ انہوں نے بعض سرگرمیوں کو غیر جمہوری اور پرتشدد قرار دیتے ہوئے ریاستی اداروں سے مؤثر کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔
اسرار عباسی نے کہا کہ ریاستی نظم و نسق برقرار رکھنا حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے ، عوام کو بھی چاہیے کہ وہ قانون کی پاسداری کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جن سے امن و امان کی صورتحال خراب ہو سکتی ہے۔
انہوں نے راولاکوٹ کے سیاسی رہنماؤں، دانشوروں اور بااثر شہریوں سے اپیل کی کہ وہ موجودہ صورتحال میں اپنا کردار ادا کریں اور عوام کو اشتعال انگیزی سے دور رکھنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔ سیاسی اختلافات کا حل مذاکرات اور جمہوری طریقہ کار کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔
اسرار عباسی نے دعویٰ کیا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے اختیار کیے جانے والے مختلف احتجاجی طریقے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ ایسی کسی بھی کال یا سرگرمی کا حصہ بننے سے پہلے اس کے ممکنہ نتائج پر غور کریں۔
مزید پڑھیں :آزاد کشمیر راولاکوٹ میں کالعدم ایکشن کمیٹی کا مکروہ چہرہ بے نقاب، مسلح شرپسند گرفتار، ہوشربا انکشافات
انہوں نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام اپنے مسائل کے حل کے لیے پرامن اور آئینی راستہ اختیار کریں۔ ان کے مطابق کسی بیرونی قوت سے مدد یا مداخلت کی توقع رکھنے کے بجائے مقامی سطح پر سیاسی اور جمہوری عمل کو مضبوط بنانا ہی خطے کے مفاد میں ہے۔


